پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے خوشخبری، مشہور یورپی کلب کے اشتراک سے ’ ڈریگن فورس اکیڈمی‘ قائم

پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے خوشخبری، مشہور یورپی کلب کے اشتراک سے ’ ڈریگن فورس اکیڈمی‘ قائم

اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی ) کی مؤثر سہولت کاری سے معروف یورپی کلب ’ایف سی پورٹو‘ اور سیالکوٹ فٹبال اکیڈمی کے اشتراک سے پاکستان میں عالمی معیار کی ’ڈریگن فورس فٹبال اکیڈمی‘ قائم کر دی گئی ہے۔ 

اس اہم پیشرفت سے مقامی نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی فٹبال کی جدید ترین تربیت اور عالمی سطح پر ابھرنے کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔

پرتگال کے مشہور کلب ’ایف سی پورٹو‘ کا شمار یورپ کے صفِ اول کے کلبوں میں ہوتا ہے، جس کی تاریخ فتوحات اور بہترین کھلاڑی پیدا کرنے کے حوالے سے شاندار رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں فٹبال کے فروغ کیلئے تاریخی سنگ میل ، پرتگال کےمعروف کلب کی پاکستان میں انٹری

اس کلب کے تعاون سے قائم ہونے والی ڈریگن فورس اکیڈمی محض ایک کھیل کا میدان نہیں، بلکہ ایک مکمل تربیتی ادارہ ہے۔

اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی نوجوان فٹبالرز کو جدید دور کی تیکنیکی تربیت، فٹنس کے عالمی معیارات اور بین الاقوامی طرز کا مسابقتی تجربہ فراہم کیا جائے گا۔

یہ اقدام مقامی کھلاڑیوں کو یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں میں اپنے جوہر دکھانے کے مواقع فراہم کرے گا۔

سرمایہ کاری اور سہولت کاری کا شاندار ماڈل

اس تاریخی پراجیکٹ کو حقیقت کا روپ دینے میں ’اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل‘ (ایس آئی ایف سی) اور ’پاکستان ریجنل اکنامک فورم‘ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

یہ منصوبہ اس بات کا واضح مظہر ہے کہ ایس آئی ایف سی کی توجہ محض روایتی معاشی شعبوں تک محدود نہیں، بلکہ کونسل نوجوانوں کی ترقی اور کھیلوں کی صنعت میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری و اشتراک کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

سیالکوٹ کی عالمی شناخت

سیالکوٹ کا نام عالمی فٹبال انڈسٹری کے لیے نیا نہیں ہے۔ دہائیوں سے فیفا ورلڈ کپ سمیت دنیا کے بڑے ٹورنامنٹس میں استعمال ہونے والے فٹبال اسی شہر میں تیار کیے جاتے ہیں۔

 تاہم کھیلوں کا سامان بنانے میں عالمی شہرت رکھنے کے باوجود، پاکستان اب تک عالمی سطح کے فٹبالرز پیدا کرنے میں پیچھے رہا ہے۔

مقامی سطح پر بے پناہ ٹیلنٹ کی موجودگی کے باوجود عالمی معیار کی اکیڈمیز اور کوچنگ کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ سیالکوٹ فٹبال اکیڈمی کا یہ نیا عالمی اشتراک اسی تاریخی خلیج کو پر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

مستقبل کا منظر نامہ

کھیلوں کی صنعت اور ترقی پذیر ممالک کے معاشی ماڈلز کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یورپی کلبوں کی جانب سے ایشیا یا افریقہ میں اکیڈمیز کا قیام ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں:72 سالہ فٹبالر کی 20 سالہ دلہن، شادی کی تصاویر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

پاکستان میں فٹبال گلی محلوں کی سطح پر بے حد مقبول ہے اور نوجوانوں کی ایک بڑی آبادی اس کھیل سے جذباتی لگاؤ رکھتی ہے۔

ایف سی پورٹو جیسی عالمی برانڈ کی آمد دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان میں خام ٹیلنٹ موجود ہے جسے تراشنے کی ضرورت ہے۔

اس اکیڈمی کے قیام سے پاکستان فٹبال کی عالمی مارکیٹ میں محض سامان فراہم کرنے والے ملک کی بجائے اب ’ٹیلنٹ ایکسپورٹ‘ کرنے والے ملک کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔

اگر اس تربیتی ماڈل کو شفافیت اور تسلسل کے ساتھ چلایا گیا تو آنے والے 5 سے 10 برسوں میں ہم کئی پاکستانی نوجوانوں کو یورپ کے صف اول کے لیگز میں کھیلتے ہوئے دیکھ سکیں گے، جو نہ صرف ملک کا نام روشن کریں گے بلکہ اسپورٹس اکانومی کے ذریعے بھاری زرمبادلہ لانے کا سبب بھی بنیں گے۔

Related Articles