مودی سرکار کا اقلیتوں کیخلاف گھیرا تنگ، بھارت میں عیسائی بھی مذہبی پابندیوں کی زد میں

مودی سرکار کا اقلیتوں کیخلاف گھیرا تنگ، بھارت میں عیسائی بھی مذہبی پابندیوں کی زد میں

مودی سرکار کی جانب سے اقلیتوں کیخلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ،  بھارت میں عیسائی بھی مذہبی پابندیوں کی زد میں آ گئے۔

 مودی حکومت میں مسلسل اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے باعث مذہبی آزادی کو شدید بحران کا سامنا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق  بھارت میں اقلیت مخالف قانون کے ذریعے عیسائیوں کی عبادت کو بھی نگرانی میں جکڑ دیا گیا۔

 رپورٹ کے مطابق بھارت میں عیسائی نام اور شناختی کارڈ نمبر درج کر کے تصدیق کے بعد عبادت پر مجبور ہو چکے ہیں، بھارت میں اقلیتیں، بالخصوص مسیحی برادری اپنے مقدس مقام پر بھی خود کوغیرمحفوظ محسوس کر رہی ہے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے مطابق اقلیتوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے باعث بھارت کو ’’خاص تشویش کا ملک‘‘ قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اب اقلیتیں اپنی نجی زندگیوں اور مذہبی فرائض کی ادائیگی میں بھی خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

مبصرین کے مطابق مذہبی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی کسوٹی ہے، اور جب عبادت جیسے ذاتی عمل کے لیے بھی شناخت کی تصدیق اور نگرانی کی شرط عائد ہونے لگے تو اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھنا فطری ہے۔

عالمی رپورٹس اور امریکی کمیشن کی سفارشات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ بھارت میں مذہبی آزادی کے حوالے سے صورتحال پر عالمی سطح پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

editor

Related Articles