وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ پر ہٹ دھرمی نے ان کی آئینی اور انتظامی ذمہ داریوں پر بھی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کی پہلی ذمہ داری صوبے کے انتظام، امن و امان اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے، ایسے میں دہشت گردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا کو سیاسی مارچ کے لیے چھوڑنے کی حکمت عملی آئینی ذمہ داریوں سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہے یہ اہم سوال ہے۔
آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے امن و سکون، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور معاشی سرگرمیوں کے تسلسل سے متعلق صوبائی حکومت کو دی جانے والی ہدایات پر عملدرآمد صوبائی انتظامیہ کی آئینی ذمہ داری بنتی ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر وفاق کی جانب سے امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہدایات دی جا رہی ہیں تو خیبرپختونخوا حکومت ان پر کیوں عملدرآمد نہیں کر رہی ہے؟ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ پر اصرار کے باعث وفاقی ہدایات اور صوبائی حکومت کے سیاسی فیصلے کے درمیان ممکنہ آئینی ٹکراؤ کا معاملہ بھی زیرِ بحث آ گیا ہے اور سہیل آفریدی کی ہٹ دھرمی کو آرٹیکل 149 کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے ۔
آئین کے آرٹیکل 129 کے تحت صوبے کا انتظامی اختیار وزیراعلیٰ کی سربراہی میں صوبائی حکومت کے ذریعے استعمال ہوتا ہے جبکہ آرٹیکل 148 کے تحت صوبائی انتظامی اختیار آئین اور وفاقی قوانین کی پابندی یقینی بنانے کے تقاضے سے مشروط ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 پولیس پر شہریوں کی جان و مال اور آزادی کے تحفظ، امن و امان برقرار رکھنے، عوامی امن قائم کرنے اور دہشت گردی کے مقابلے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔
ایسے میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب خیبرپختونخوا کو بدستور امن و امان کے چیلنجز کا سامنا ہے تو وزیراعلیٰ خود ایک ایسے لانگ مارچ کی قیادت کے لیے کیوں بضد ہیں جس سے صوبے کی انتظامی توجہ اور وسائل سیاسی سرگرمی کی طرف منتقل ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
سہیل آفریدی کا 4 اکتوبر کے لانگ مارچ پر اصرار پہلے ہی پارٹی کے اندر بھی بحث کا باعث بنا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہٹ دھرمی کو ان کی اپنی سیاسی بقا سے بھی جوڑا جا رہا ہے اور یہ تاثر موجود ہے کہ اگر وہ پارٹی قیادت کی توقع کے مطابق لانگ مارچ لے کر نہ نکل سکے تو ان کی وزارتِ اعلیٰ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کی ترجیح صوبے کے شہریوں کا جان و مال کا تحفظ اور امن و امان ہونا چاہیے یا اسلام آباد کی سیاسی سرگرمی؟ قانونی ماہرین کے لیے بھی یہ سوال اہم ہے کہ اگر ایک صوبائی حکومت اپنی انتظامی ذمہ داریوں کو سیاسی مقصد کے لیے ثانوی بنا دے تو اس کے آئینی اور قانونی اثرات کیا ہوں گے۔