پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مارچ کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی پارٹی کے کارکنان میں شدید بد نظمی اور باہمی تصادم کی اطلاعات سامنے آنے لگیں۔
باوثوق ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، مارچ کےآغاز اور مختلف جمع بندی کے مقامات پر کارکنان آپس میں ہی گتھم گتھا ہو گئے۔ معمولی بات پر شروع ہونے والی تلخ کلامی شدید گالم گلوچ، دھکم پیل اور ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی جس کے باعث مارچ کے آغاز سے قبل ہیں شدید بدنظمی پھیل گئی آپس میں الجھنے ا ور گالم گلوچ اطلاعات نے مارچ کے تمام تر انتظامات اور نام نہاد ڈسپلن کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ مختلف اضلاع سے آئے ہوئے کارکنان کے گروہ ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس کے باعث جگہ جگہ بدتر نظم و ضبط اور جھگڑوں کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔
سڑکوں پر مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی کارکنان کا یوں ایک دوسرے سے الجھنا اور گتھم گتھا ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تحریک انصاف کی صفوں میں شدید بوکھلاہٹ اور بد نظمی پھیل چکی ہے۔
آپس کی اس ہاتھا پائی اور غنڈہ گردی نے جہاں ماحول کو مزید خراب کیا وہاں موجود عام لوگ بھی اس افراتفری سے خوفزدہ ہو گئے، ان تمام اطلاعات سے یہ بات بالکل عیاں ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف کا یہ مارچ بغیر کسی نظم و ضبط اور تربیت کے محض ایک غیر منظم اور بدحواس ہجوم کا تماشہ بن چکا ہے جس کا آغاز ہی آپس کی لڑائی اور بد نظمی سے ہو ااس کا انجام کیا ہو گا ۔