وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پشاور پہنچ گئے، جہاں وہ اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ اپنے دورہ پشاور کے دوران خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے بھی خصوصی ملاقات کریں گے۔
دورہ پشاور سے قبل محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن کے وفد نے مذاکرات میں نیک نیتی کا مظاہرہ کیا اور مذاکرات کے دوران ایک اچھا معاہدہ تیار ہوگیا تھا۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مسودہ صدر کو دکھایا گیا اور وزیراعظم کو بھی اس حوالے سے آگاہ کیا گیا، تاہم فائنل مسودہ صدر کو دکھا کر واپس آنے کے بعد تبدیل کردیا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران مسودے میں 4 مرتبہ تبدیلی کی گئی۔ ان کے مطابق حکومت خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون چاہتی ہے، تاہم ڈرافٹ فائنل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’ہم نہیں مانتے‘‘۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر فیصلے سہیل آفریدی نے ہی کرنے تھے تو انہیں مذاکرات میں آنا چاہیے تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اپوزیشن سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی تھی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے نیک نیتی کے ساتھ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور حکومت سیاسی معاملات پر سو فیصد راضی ہوگئی تھی۔ حکومت کی صرف یہ درخواست تھی کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی روکنے کے لیے مل کر کام کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر خیبر پختونخوا حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بات کرنے سے انکار کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ کے دورہ پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں صوبے کی موجودہ صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا