200 یونٹ تک بجلی صارفین کیلئے سبسڈی ختم کرنے کی تجویز زیرِ غور

200 یونٹ تک بجلی صارفین کیلئے سبسڈی ختم کرنے کی تجویز زیرِ غور

پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کی ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کی آئندہ قسط کے حصول کے لیے مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، جبکہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور سبسڈی کے نظام میں تبدیلی سمیت متعدد اہم امور زیرِ بحث ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسیز کے مسودے پر اتفاق رائے کے لیے مشاورت جاری ہے۔ مذاکرات میں بجلی کے شعبے کی صورتحال، گردشی قرضے، ڈسکوز کی نجکاری اور صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کا معاملہ خصوصی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے بجلی کے شعبے میں موجود تقریباً ایک ہزار 675 ارب روپے کے گردشی قرضے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مذاکرات ناکام کیوں ہوے ،وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بڑا انکشاف کر دیا

مذاکرات کے دوران ڈسکوز کی نجکاری کے مجوزہ طریقہ کار پر بھی آئی ایم ایف کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارہ بجلی کے شعبے میں مالی نقصانات کم کرنے، وصولیوں کا نظام بہتر بنانے اور اصلاحات پر عملدرآمد کو اہم قرار دے رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق 200 یونٹ ماہانہ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے موجودہ کراس سبسڈی نظام ختم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر کم آمدن والے مستحق صارفین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے براہِ راست اور ہدفی سبسڈی دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

مجوزہ نظام کے تحت سبسڈی بجلی کے یونٹس کی بنیاد پر عمومی طور پر دینے کے بجائے مستحق خاندانوں کو براہِ راست فراہم کرنے کا طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے، تاہم اس تجویز کی حتمی منظوری مذاکرات کے نتیجے اور حکومت کی پالیسی پر منحصر ہوگی۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن کی آئندہ چند روز میں پاکستان سے واپسی متوقع ہے۔ اگر مشن کی روانگی تک میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسیز کے مسودے پر مکمل اتفاق رائے نہ ہوسکا تو اسٹاف لیول معاہدے کے لیے ورچوئل مذاکرات جاری رکھنے کا امکان ہے۔

مذاکرات میں بجلی کے شعبے کے ساتھ ساتھ مالیاتی اہداف، اصلاحات اور قرض پروگرام کی آئندہ قسط سے متعلق دیگر شرائط کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے مذاکرات میں مطلوبہ پیش رفت حاصل کرنا اہم ہے کیونکہ اسٹاف لیول معاہدے کے بعد ہی پروگرام کے تحت اگلی قسط کی منظوری کا مرحلہ آگے بڑھ سکے گا۔

یوں آئی ایم ایف مذاکرات کے موجودہ مرحلے میں بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ، ڈسکوز کی نجکاری اور پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے سبسڈی کا نیا طریقہ کار اہم معاملات بن گئے ہیں، جبکہ حتمی فیصلوں کا انحصار پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مشاورت کے نتائج پر ہوگا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles