تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں عوام کی عدم دلچسپی اور مطلوبہ پذیرائی نہ ملنے کے بعد پی ٹی آئی نے سیاسی راستہ نکالنے کی کوششیں تیز کردی ہیں، خیبر پختونخوا میں پارٹی کے صدر جنید اکبر نے تصدیق کی ہے کہ تحریک انصاف نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ثالثی کرانے کی درخواست کی ہے۔
جنید اکبر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے فضل الرحمان کو ثالثی کے لیے کہا ہے، تاہم انہیں لانگ مارچ میں شامل ہونے کی دعوت نہیں دی گئی بلکہ ان سے ثالثی کرانے کے لیے کہا گیا ہے۔
ثالثی کی درخواست
جنید اکبر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے مولانا فضل الرحمان سے لانگ مارچ کا حصہ بننے کے لیے نہیں کہا بلکہ موجودہ صورتحال میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت اور ثالثی کا راستہ اختیار کیا جائے۔
عمران خان کی رہائی
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر نے واضح کیا کہ لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کے لیے ہے،ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا بنیادی مطالبہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی ہے اور لانگ مارچ بھی اسی مقصد کے لیے کیا جارہا ہے۔
ایمرجنسی پر ردعمل
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے حوالے سے وفاقی وزرا کے بیانات پر جنید اکبر نے کہا کہ ہم وفاقی وزرا کی ایمرجنسی کی باتوں کو سنجیدہ نہیں لیتے،انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف بھی چاہتی ہے کہ صوبے میں امن و امان ہو اور مسائل حل کیے جائیں۔
دہشتگردی کے خلاف آپریشن
جنید اکبر نے کہا کہ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے،انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا اور دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنا ضروری ہے،ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف بھی چاہتی ہے کہ صوبے میں امن قائم ہو اور عوام کو درپیش مسائل حل کیے جائیں۔
محسن نقوی سے رابطہ
پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ تین دن پہلے بھی بیرسٹر گوہر اور محسن نقوی کے درمیان رابطہ ہوا تھا،جنید اکبر کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے سیاسی سطح پر رابطے جاری تھے۔
فضل الرحمان کا کردار
جنید اکبر کی گفتگو سے واضح ہوا کہ تحریک انصاف نے موجودہ صورتحال میں مولانا فضل الرحمان سے ثالثی کرانے کی درخواست کی ہے،پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر کے مطابق لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کے لیے ہے، جبکہ تحریک انصاف صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی ضرورت کو بھی تسلیم کرتی ہے۔
