قانون کا شکنجہ سر پر، اپنے اقدامات کا حساب دینے کا خوف، اقبال آفریدی بھی روپوش

قانون کا شکنجہ سر پر، اپنے اقدامات کا حساب دینے کا خوف، اقبال آفریدی بھی روپوش

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا اقتدار ختم ہوتے ہی پارٹی رہنما اقبال آفریدی قانون کے سامنے پیش ہونے اور احتساب کے خوف سے یکایک روپوش ہو گئے ہیں۔

صوبے میں حکمرانی کا دور ختم ہوتے ہی پی ٹی آئی کی اعلیٰ اور درمیانی قیادت قانونی احتساب کے خوف سے ایک ایک کر کے روپوش ہو رہی ہے، اور اقبال آفریدی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہوئے ہیں۔

اقبال آفریدی کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ حکومتی سرپرستی ختم ہونے کے بعد اب انہیں قانون کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اور اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔

اسی لیے احتساب کی متوقع کارروائیوں سے فرار پانے اور معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی خاطر انہوں نے خود ساختہ روپوشی اور اغواء کا ڈراما تیار کیا ہے۔

حقیقت میں وہ خود ہی قانونی گرفت سے بچنے کے لیے کسی محفوظ پناہ گاہ میں جا بیٹھے ہیں۔

من گھڑت خبریں اور مصنوعی فضا قائم کرنے کا کھیل

ان کے قریبی ذرائع اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس مسلسل یہ من گھڑت خبریں پھیلا رہے ہیں کہ اقبال آفریدی کو کسی نے اغوا کر لیا ہے۔

روپوش ہونے سے قبل گاڑیوں کو سنسان مقامات پر لاوارث چھوڑ کر باقاعدہ ایسی فضا بنائی گئی تاکہ ان پر کسی حملے یا زبردستی اٹھائے جانے کا تاثر قائم کیا جا سکے اور عامتہ الناس کی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔

خیبرپختونخوا کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد رہنماؤوں کا اس طرح یکے بعد دیگرے غائب ہونا گہرے انتظامی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

جب بھی حکمرانی کا دور ختم ہوتا ہے تو عوامی نمائندوں کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے اور اختیارات کے استعمال پر شفاف انداز میں قانون کا سامنا کریں۔

احتساب کے خوف سے روپوشی اختیار کرنا اور خود ساختہ اغوا کی افواہیں پھیلا کر مظلومیت کارڈ کھیلنا وقتی طور پر تو دھیان بانٹ سکتا ہے، لیکن آئین اور قانون کے ترازو میں شواہد اور حقائق ہی حتمی حیثیت رکھتے ہیں۔

Related Articles