تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت کے اختتام کے ساتھ ہی سابق صوبائی وزیر شکیل خان قانون کا سامنا کرنے کے بجائے روپوش ہو کر خود ساختہ اغوا کا ڈراما رچا رہے ہیں۔
تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت کے اختتام کے ساتھ ہی سیاسی منظرنامے میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے، جہاں پارٹی کے اہم رہنما شکیل خان بھی اچانک منظرِ عام سے غائب ہو چکے ہیں۔
اقتدار کا سایہ سر سے ہٹتے ہی شکیل خان نے قانون کا سامنا کرنے کے بجائے غائب ہونے کو ترجیح دی ہے۔
احتساب کا خوف اور قانونی کارروائی
شکیل خان کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ماضی میں کی جانے والی گڑ بڑ اور بدعنوانیوں کی پاداش میں اب قانون ان تک ضرور پہنچے گا اور انہیں عدالتوں کے طویل چکر کاٹنے پڑیں گے۔
اس متوقع قانونی کارروائی میں تاخیر پیدا کرنے اور اپنے خلاف ہونے والی تفتیشی پیشرفت کو روکنے کے لیے موصوف نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت روپوشی کا راستہ چنا ہے۔
خود ساختہ اغوا کا ڈراما اور پروپیگنڈا
قانونی گرفت سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنے گرد خود ساختہ اغوا کی جھوٹی کہانیاں بنوائی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں کی طرف سے یہ پروپیگنڈا کھل کر پھیلایا جا رہا ہے کہ انہیں نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے، مگر سچی بات یہ ہے کہ وہ خود گرفتاری کے خوف سے چھپے ہوئے ہیں۔
روپوش ہونے سے قبل اپنے زیرِ استعمال گاڑیوں کو سنسان جگہوں پر لاوارث چھوڑنے جیسے ڈرامائی اقدامات کیے گئے تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ ان پر کوئی حملہ ہوا ہے یا انہیں زبردستی اٹھایا گیا ہے۔
اس تمام تماشا بازی کا بنیادی مقصد محض سنسنی پھیلانا اور اپنے لیے عوام سے ہمدردیاں اکٹھی کرنا ہے۔
سیاسی تبدیلی کے بعد جب روایتی اقتدار کے ایوانوں سے باہر نکلنے والے رہنما اس طرح کے فرار کے راستے اختیار کرتے ہیں، تو اس سے ان کے سابقہ طرزِ حکمرانی اور انتظامی فیصلوں کی شفافیت پر گہرے سوالات اٹھتے ہیں۔
قانونی اداروں کی تفتیش اور ٹھوس شواہد کے سامنے خود ساختہ اغوا کی ایسی کہانیاں زیادہ دیر نہیں ٹک سکتیں، اور شفاف احتساب کا عمل بالاخر اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔