پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا پر مسلط سیاہ دور ختم، آفریدی کی ذلت آمیز رخصتی: خرم روکھڑی کا نااہل ٹولے کی چھٹی پر دوٹوک اور جارحانہ موقف

پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا پر مسلط سیاہ دور ختم، آفریدی کی ذلت آمیز رخصتی: خرم روکھڑی کا نااہل ٹولے کی چھٹی پر دوٹوک اور جارحانہ موقف

سیاسی تجزیہ کار خرم روکھڑی نے خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی کو صوبے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکمرانی اور سہیل آفریدی کی کارکردگی پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل سہیل آفریدی کی رخصتی کی پیش گوئی کر رہے تھے اور اب ان کے بقول وہ مرحلہ آ پہنچا ہے جس کا صوبے کے عوام انتظار کر رہے تھے۔

خرم روکھڑی نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے تحریک انصاف کو اس امید پر اقتدار دیا تھا کہ صوبے میں تعمیر و ترقی ہوگی اور عوامی مسائل حل ہوں گے، لیکن ان کے مطابق یہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں پسماندگی اور بدانتظامی کے مسائل برقرار رہے اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا۔

سیاسی تجزیہ کار نے سہیل آفریدی کی حکومتی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے بدعنوانی اور ناقص انتظامی معاملات کے الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا، ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سنگین صورت حال، آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی قانونی شرائط کیا ہیں؟

خرم روکھڑی نے کہا کہ جب عوام کی توقعات پوری نہ ہوں اور مسائل میں اضافہ ہو تو حکمرانوں کو اپنی کارکردگی کا جواب دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے سہیل آفریدی کی رخصتی کو اسی سیاسی صورت حال کے تناظر میں دیکھا اور کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اب اپنے بنیادی حقوق ملنے چاہییں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بہتری، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ترقیاتی سرگرمیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا کے عوام بھی ملک کے دوسرے حصوں کے شہریوں کی طرح امن، ترقی اور خوشحالی کے حق دار ہیں۔

خرم روکھڑی نے امید ظاہر کی کہ صوبے میں انتظامی اور حکومتی تبدیلیوں کے نتیجے میں عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے گی اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم ان کی جانب سے تحریک انصاف اور سہیل آفریدی کی کارکردگی سے متعلق عائد کیے گئے الزامات ان کے سیاسی تبصرے کا حصہ ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles