رواں برس کیمسٹری کا نوبیل انعام فرانس اور جاپان کے دو سائنسدانوں نے اپنے نام کر لیا ہے۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق فرانسیسی سائنسدان ہنری کاگن اور جاپانی کیمیا دان کینسو سوائی کو یہ اعزاز دیا گیا ہے۔
دونوں سائنسدانوں نے کیمیائی مالیکیولز کی غیر متناسب ساخت سے متعلق ایک دیرینہ سائنسی مسئلے پر تحقیق کی۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق ان کی تحقیق کیمسٹری کے ایک اہم معمے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ تحقیق ادویات کی تیاری کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
سائنسی مسئلہ
نوبیل کمیٹی کے مطابق متعدد مالیکیولز دو مختلف شکلوں میں موجود ہوتے ہیں۔
یہ دونوں شکلیں ایک دوسرے کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔
یہ کیفیت کچھ حد تک انسانی ہاتھوں سے مشابہ ہے۔
انسانی ہاتھ بھی ایک دوسرے کی عکس نما شکل رکھتے ہیں۔
کمیٹی کے مطابق زندگی کے لیے ضروری کئی مالیکیولز بھی اسی طرح کی ساخت رکھتے ہیں۔
تاہم جاندار ان مالیکیولز کی دونوں شکلوں کو یکساں طور پر استعمال نہیں کرتے۔
جاندار عموماً ان میں سے صرف ایک شکل استعمال کرتے ہیں۔
سائنس دان ایک طویل عرصے سے اس مظہر کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
پاسچر کی تحقیق
دونوں سائنسدانوں کی تحقیق 19ویں صدی کے فرانسیسی کیمیا دان لوئی پاسچر کے کام سے جڑی ہوئی ہے۔
پاسچر نے ایسے کیمیائی مادوں کی دو مختلف شکلوں کی نشاندہی کی تھی۔
یہ دونوں شکلیں ایک دوسرے کی آئینہ دار تھیں۔
بعد میں سائنس دانوں نے اس مظہر کو مزید سمجھنے کے لیے مختلف تحقیقات کیں۔
ہنری کاگن اور کینسو سوائی کی تحقیق اسی سائنسی سلسلے کو آگے بڑھاتی ہے۔
ان کی تحقیق نے مالیکیولز کی اس مخصوص ساخت کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایک صدی پرانا معمہ
نوبیل کمیٹی کے مطابق کیمسٹری میں اس مظہر کو ہوموکائریلیٹی کہا جاتا ہے۔
یہ مسئلہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔
سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ جاندار ایک جیسی آئینہ نما شکلوں میں سے ایک کو کیوں ترجیح دیتے ہیں۔
نوبیل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں کی تحقیق نے اس معاملے کو سمجھنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تحقیق کی اہمیت صرف بنیادی کیمسٹری تک محدود نہیں ہے۔
اس کے اثرات ادویات کی تیاری اور حیاتیاتی تحقیق سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔


