خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کا خاتمہ ہوتے ہی پارٹی رہنما بابر سلیم سواتی ماضی کی بے قاعدگیوں کے احتساب سے بچنے کے لیے اچانک منظرنامے سے روپوش ہو گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوتے ہی بابر سلیم سواتی بھی اچانک سیاسی منظرنامے سے غائب ہو گئے ہیں۔
کل تک میڈیا پر روزانہ پی ٹی آئی کے موقف کی ترجمانی اور نمائندگی کرنے والے بابر سلیم سواتی کے سر سے جیسے ہی اقتدار کا سایہ ختم ہوا، وہ اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح یکایک روپوش ہو چکے ہیں۔
احتساب کا خوف اور قانونی کارروائی سے فرار
بابر سلیم سواتی اس حقیقت سے اچھے طریقے سے واقف ہیں کہ ماضی کے دورِ اقتدار میں کی جانے والی بے قاعدگیوں اور کرپشن کا حساب دینے سے وہ قانون کی نظروں سے ہرگز بچ نہیں پائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کے دورِ مظالم اور کرپشن کا خاتمہ مبارک شگون: بینش سلیم کا کے پی کے عوام کو مبارکباد کا پیغام، صوبے میں امن و ترقی کے نئے دور کا اعلان
اسی لیے اس متوقع قانونی کارروائی کی راہ میں روڑے اٹکانے اور احتساب سے بچنے کے لیے انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت روپوشی کا راستہ اختیار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں کی جانب سے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بابر سلیم سواتی کو ‘نامعلوم افراد’ نے زبردستی اغوا کر لیا ہے، لیکن حقیقت میں یہ محض ایک من گھڑت کہانی ہے جو صرف عامتہ الناس کی ہمدردی سمیٹنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہے۔
مشکوک واقعات اور ڈرامائی پیش رفت


