وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور جنید اکبر نے خود گرفتاری دی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے وفاقی حکومت کے گورنر راج کے فیصلے کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال اسمبلیوں سے نکلنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور پی ٹی آئی اسمبلیوں میں رہ کر اپنا مقدمہ لڑے گی۔
اختیار ولی کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے تیار تھے، تاہم سہیل آفریدی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ویٹو کردیا تھا۔
اختیار ولی نے کہا کہ اسپیکر نے بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروا دیتے ہیں، جس کے بعد مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب کا دفتر دوبارہ کھلنے لگا ہے، جسے بانی پی ٹی آئی نے بند کروا دیا تھا۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر نے خود گرفتاری دی۔
گورنر راج کا فیصلہ وفاقی حکومت کا بڑا بلنڈر ہے، شوکت یوسفزئی
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گورنر راج نافذ کرکے بڑا بلنڈر کیا ہے اور یہ ایک احمقانہ فیصلہ ہے۔
شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بار بار واضح کرچکی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی اور جن لوگوں پر شک تھا، انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ابھی اسمبلیوں سے نکلنے کا کوئی فیصلہ زیر غور نہیں، بلکہ پی ٹی آئی اسمبلیوں میں رہ کر اپنا مقدمہ لڑے گی۔
شوکت یوسفزئی نے مزید بتایا کہ اگلے لائحہ عمل پر غور کے لیے کل اپوزیشن کا اجلاس ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے حکومت سے مذاکرات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کیے جا رہے تھے۔
شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ ہاؤس سے گرفتار کیا گیا۔