خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیرستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں من گھڑت اور جھوٹی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں دعویٰ کیا گیا کہ اپر وزیرستان کے علاقے شکتوئی، کراچ خیل، آنے خیل، ولادین بہادر اور گردونواح میں عام آبادیوں پر اندھا دھند مارٹر گولے برسائے گئے، جس سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ پیدا ہوگیا۔
تاہم اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی قابلِ اعتماد شواہد سامنے نہیں آئے۔ نہ ہی دستیاب معلومات سے مذکورہ علاقوں میں عام آبادیوں پر مارٹر گولوں سے حملے کی تصدیق ہوتی ہے ان تمام علاقوں میں امن ہے ۔
گورنر راج کے نفاذ کو وزیرستان میں مبینہ بمباری سے جوڑ کر پیش کرنے والے اس پیغام میں ایسے دعوے کیے گئے ہیں جن کی تصدیق ضروری ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کو حقیقت بنا کر پھیلانے سے عوام میں خوف و ہراس پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
شہریوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی خبروں کو آگے پھیلانے سے پہلے ان کی تصدیق کریں اور سیکیورٹی صورتحال سے متعلق معلومات کے لیے مستند ذرائع پر انحصار کریں ایسے خبریں جھوٹی من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔
