خیبرپختونخوا میں سوشل میڈیا پر ریاست کے خلاف تشدد پر اکسانے، دہشت گردی کی تشہیر اور نقصان دہ غلط معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے دیا گیا ہے۔
صوبائی محکمہ داخلہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ خلاف ورزیوں کی جانچ پڑتال کرکے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقدمات درج کیے جائیں۔
قانونی کارروائی
محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کی جانب سے 13 اکتوبر 2026 کو جاری نوٹیفکیشن میں پولیس افسران اور متعلقہ حکام کو احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد اقبال خان نے تمام اضلاع کے حکام کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کا کہا ہے۔
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ریاست کے خلاف تشدد پر اکسانے، دہشت گردی کو فروغ دینے اور نقصان دہ غلط معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس کی فوری جانچ کی جائے۔
ایف آئی آر اور گرفتاریاں
نوٹیفکیشن کے مطابق جہاں ٹھوس شواہد سے کسی مجرمانہ فعل کی نشاندہی ہو، وہاں متعلقہ قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جائے۔ ایسے معاملات میں شواہد کی بنیاد پر ملزمان کی گرفتاری بھی عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکم نامے میں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے اور غیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق شکایات کا قانون کے مطابق جائزہ لینے پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم کسی اکاؤنٹ کے خلاف کارروائی کے لیے متعلقہ قانون اور دستیاب شواہد کو بنیاد بنانا ضروری ہوگا۔
افسران کو تنبیہ
محکمہ داخلہ نے متعلقہ حکام کو خبردار کیا ہے کہ احکامات پر عمل درآمد میں غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ذمہ داری پوری نہ کرنے والے افسران کے خلاف بھی مناسب کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس اقدام کے ذریعے ضلعی پولیس اور متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا پر قانون شکنی کے معاملات پر کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام کو ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن ارسال
محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن کی نقول انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا، تمام ریجنل ڈپٹی انسپکٹر جنرلز، ضلعی پولیس افسران اور چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کے پرسنل سیکریٹری کو ارسال کردی ہیں۔
حکم نامے کے مطابق سوشل میڈیا پر تشدد پر اکسانے، دہشت گردی کی تشہیر اور نقصان دہ غلط معلومات پھیلانے کے معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ کسی بھی شخص یا اکاؤنٹ کے خلاف قانونی قدم اٹھانے کے لیے ٹھوس شواہد اور متعلقہ قانونی تقاضوں کی پابندی لازم ہوگی۔