خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری دہشتگردی، ایمل ولی خان کا صدر آصف زرداری کو اہم خط

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری دہشتگردی کے حوالے سے ایمل ولی خان نے صدرمملکت آصف علی زرداری کو خط لکھ دیا۔

خط میں پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال اور بڑھتی دہشتگردی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

خط میں صدر مملکت سے پختونخوا اور بلوچستان کے حالات پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط کے متن کے مطابق پختونخوا اور بلوچستان کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں آج بھی خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں دہشتگردی اور بدامنی کا بازار گرم ہے۔

ریاست مخالف مہم چلانے کے الزام میں پی ٹی آئی قیادت کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی، اندرونی کہانی سامنے آگئی

پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں حکومت اپنی رٹ مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ دہشتگرد عناصر ایک کھل کر کارروائیاں کر رہے ہیں، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردوں کے حملے معمول بن چکے ہیں ۔پولیس، لیویز، اور ایف سی کے جوانوں سمیت عام شہریوں کی بڑی تعداد ان حملوں میں شہید ہورہی ہے۔

خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں عوام خوف اور عدم تحفظ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں اس صورتحال نے نہ صرف عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے بگڑتی صورتحال نے عوام میں مایوسی، بے یقینی اور احساس محرومی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ پانچ دہائیوں سے دہشتگردی کی آگ میں جل رہے ہیں۔پختونخوا کے عوام نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں، اپنے گھر بار چھوڑے ہیں۔ پختونوں نے اپنی زمینیں، کاروبار اور روزگار گنوائے ہیں، مگر ان کی قربانیوں کا آج تک کوئی اعتراف نہیں کیاگیا۔

ہم نے امن کی بحالی کیلئے ریاست کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنا فرض نبھایا اس جدوجہد میں ہمارے 1300 سے زائد کارکنان، رہنما اور اراکین اسمبلی شہید ہوئے۔

2018 کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی وفاقی اور پختونخوا حکومت اور اس وقت کی عسکری قیادت نے دہشتگردوں کی آباد کاری کا منصوبہ بنایا۔
عوام اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر دہشگردوں سے مذاکرات کا یہ خطرناک کھیل رچایا گیا، خفیہ معاہدے کے تحت 40 ہزار سے زائد دہشتگردوں کو خیبر پختونخوا میں دوبارہ بسایا گیا۔

اینکر پرسن نجیبہ فیض کا اکائونٹ بحال

102 خطرناک دہشتگردوں کو اس وقت کے صدر مملکت کے ایک دستخط سے رہا کرایا گیا ہم نے اس وقت بھی ہر فورم پر اس فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی ہم نے خبردار کیا تھا کہ یہ منصوبہ صوبے کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

باجوڑ سے لے کر وزیرستان، بنوں اور شانگلہ سمیت دیگر اضلاع میں روزانہ دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

اے این پی مطالبہ کرتی ہے آئین کے آرٹیکل 54 کے تحت پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اجلاس میں عسکری قیادت ملک میں جاری دہشتگردی اور سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دے، دہشتگردوں کو پختونخوا میں آباد کرانے والے تمام کردار قوم کے مجرم ہیں۔

editor

Related Articles