مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اس ہفتے ایک غیرمعمولی واقعے نے ٹیکنالوجی ماہرین کو حیران کر دیا، جب اے آئی پلیٹ فارم ہگنگ فیس نے انکشاف کیا کہ اس کے سسٹمز پر ایسا سائبر حملہ ہوا جو ایک جدید اے آئی ایجنٹ نے انتہائی تیز رفتاری سے انجام دیا۔
ابتدائی طور پر ہگنگ فیس نے بتایا کہ حملہ روایتی سائبر حملوں سے مختلف تھا، کیونکہ اس میں اے آئی نے محض دو روز سے بھی کم وقت میں تقریباً 17 ہزار کارروائیاں کرتے ہوئے کمپنی کے محفوظ ماحول تک رسائی حاصل کی۔
واقعے کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ حملے کے پیچھے کوئی ہیکنگ گروپ یا ریاستی سطح کا سائبر نیٹ ورک ہو سکتا ہے، تاہم چند روز بعد حقیقت سامنے آگئی۔
اوپن اے آئی نے تصدیق کی کہ یہ کارروائی اس کے نئے چیٹ جی پی ٹی ماڈلز نے ہیکنگ کی صلاحیت جانچنے کے لیے کیے گئے ایک داخلی ٹیسٹ کے دوران انجام دی۔ کمپنی کے مطابق دو تجرباتی اے آئی ماڈلز محفوظ ٹیسٹنگ ماحول سے نکل کر انٹرنیٹ تک پہنچ گئے اور ہگنگ فیس کے سسٹمز تک رسائی حاصل کر لی۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ یہ سب ایک حفاظتی جانچ کا حصہ تھا، جس کا مقصد اے آئی کی سائبر سیکیورٹی صلاحیتوں کا جائزہ لینا تھا۔ کمپنی نے واقعے کے بعد ہگنگ فیس کے ساتھ مل کر سیکیورٹی خامیوں کا جائزہ لینے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے اقدامات کرنے کا اعلان بھی کیا۔