تیل کی قیمتیں 2 ماہ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں،پاکستان میں پیٹرول مزید کتنا مہنگا ہوگا؟

تیل کی قیمتیں 2 ماہ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں،پاکستان میں پیٹرول مزید کتنا مہنگا ہوگا؟

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال اور یوکرین جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں مختلف اقسام کے خام تیل کے فزیکل کارگوز کی قیمتیں بڑھ کر گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

بعض سودوں میں خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے قریب ریکارڈ کی گئی جس نے عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال ہونے والا معیار ڈیٹڈ برینٹ (Dated Brent) بڑھ کر 105.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو مئی کے آخر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ جون کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گئی۔

یہ بھی پڑھیں:جن کے نام پر گھر نہیں، ان کیلئے حکومت کا بڑا اعلان، آسان قرض کی منظوری

اگر عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 105 سے 110 ڈالر فی بیرل کے درمیان برقرار رہتی ہے روپے کی قدر میں نمایاں کمی نہیں آتی اور موجودہ ٹیکس و لیوی میں بھی کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی جاتی تو موجودہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے کے تحت آئندہ جائزے میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 4 سے 8 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 سے 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان موجو د  ہے تاہم حتمی فیصلہ درآمدی اوسط قیمت شرحِ مبادلہ اور حکومتی ٹیکسوں و لیویز کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ سپلائی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خلیجی خطے میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ یوکرین جنگ نے بھی عالمی سپلائی چین پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب قازقستان نے اعلان کیا کہ بحیرہ اسود میں واقع سی پی سی (CPC) خام تیل برآمدی ٹرمینل مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد عارضی طور پر بند کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ملک کی خام تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ ذرائع کے مطابق قازقستان کی یومیہ پیداوار کم ہو کر تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار بیرل رہ گئی ہے، جس نے عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

تیل کے معروف تجزیہ کار تاماس وارگا کا کہنا ہے کہ اس وقت سرمایہ کاروں کی تمام توجہ سپلائی کے ممکنہ بحران پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق خریدار فوری فراہمی کے لیے متبادل ذرائع سے خام تیل حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے باعث فزیکل کارگوز کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور یوکرین جنگ کے باعث سپلائی متاثر ہوتی رہی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ، بجلی اور مہنگائی پر بھی مرتب ہوں گے۔ پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی عالمی قیمتوں میں یہ اضافہ آئندہ دنوں میں ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles