آسٹریلیا نے رات کے وقت سڑکوں پر حادثات کم کرنے کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی کا آزمائشی استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایسی خصوصی گلو اِن دی ڈارک روڈ مارکنگز لگائی جا رہی ہیں جو دن بھر سورج کی روشنی جذب کرتی ہیں اور رات کے وقت سبز رنگ میں چمکتی ہیں۔
ان جدید نشانات کا مقصد اندھیری سڑکوں پر ڈرائیورز کو لین واضح دکھانا اور بغیر اضافی اسٹریٹ لائٹس کے محفوظ سفر کو ممکن بنانا ہے۔ یہ آزمائشی منصوبہ آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے مشہور بلی پاس پر شروع کیا گیا ہے، جو تیز موڑوں، گھنے جنگلات اور رات کے وقت پیش آنے والے متعدد قریب الوقوع حادثات کی وجہ سے حساس شاہراہ سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان روڈ مارکنگز میں فوٹو لومی نیسنٹ مواد استعمال کیا گیا ہے، جو دن کے وقت سورج کی روشنی کو جذب کرتا ہے اور سورج غروب ہونے کے بعد کئی گھنٹوں تک ہلکی سبز روشنی خارج کرتا رہتا ہے۔ اس سے سڑک کی لائنیں دور سے واضح دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث ڈرائیور آسانی سے اپنی لین برقرار رکھ سکتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں اسٹریٹ لائٹس موجود نہیں ہوتیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بلی پاس پر رات کے وقت متعدد حادثات اور قریب الوقوع تصادم رپورٹ ہوتے رہے ہیں، اسی لیے اس مقام کو آزمائشی منصوبے کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی مؤثر ثابت ہوئی تو اسے آسٹریلیا کی دیگر خطرناک شاہراہوں اور پہاڑی سڑکوں پر بھی متعارف کرایا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی نہ صرف سڑکوں کی حفاظت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ اسٹریٹ لائٹس کی ضرورت کم ہونے سے توانائی کی بچت اور کاربن اخراج میں کمی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آزمائشی منصوبہ کامیاب رہا تو گلو اِن دی ڈارک روڈ مارکنگز مستقبل میں دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مؤثر اور کم لاگت حل ثابت ہو سکتی ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں رات کے وقت روشنی کا مناسب انتظام موجود نہیں۔