سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان نے بھارت میں جاری طلبا احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے بیان جاری کیا ہے، تاہم حقائق کی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دعویٰ درست نہیں۔
وائرل اسکرین شاٹ میں شاہ رخ خان کے نام سے ہندی زبان میں ایک پیغام شیئر کیا گیا، جس میں مبینہ طور پر طلبا سے اظہارِ یکجہتی اور امتحانی نظام میں شفافیت کی حمایت کی گئی تھی۔ یہ تصویر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیل گئی اور متعدد صارفین نے اسے اداکار کا حقیقی بیان سمجھ کر شیئر کیا۔
فیکٹ چیک کے دوران شاہ رخ خان کے تصدیق شدہ ایکس (سابق ٹوئٹر) اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا، تاہم وہاں ایسا کوئی بیان یا پوسٹ موجود نہیں ملی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وائرل اسکرین شاٹ ان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری نہیں کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ غلط فہمی غالباً شاہ رخ خان کے نام سے چلنے والے ایک غیر مصدقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی وجہ سے پیدا ہوئی، جس پر شیئر کیے گئے مواد کو بعض صارفین نے اداکار کا اصل بیان سمجھ لیا۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب نئی دہلی کے جنتر منتر میں امتحانی نظام میں شفافیت اور پیپر لیکس کے خلاف طلبا کا احتجاج جاری ہے۔ اس معاملے پر متعدد معروف شخصیات اپنے خیالات کا اظہار کر چکی ہیں، جس کے باعث سوشل میڈیا پر شاہ رخ خان سے متعلق بھی قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔
تاحال ایسا کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آیا کہ شاہ رخ خان نے طلبا احتجاج کی حمایت میں کوئی عوامی بیان دیا ہو یا اپنے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس حوالے سے کوئی پیغام جاری کیا ہو، اس لیے ان سے منسوب وائرل پوسٹ کو مستند نہیں کہا جا سکتا۔
دوسری جانب بالی ووڈ کی کئی شخصیات طلبا کے حق میں آواز اٹھا چکی ہیں۔ اداکارہ سوناکشی سنہا، شبانہ اعظمی، پرکاش راج اور رنجنی ہریداس سمیت متعدد فنکاروں نے احتجاج کرنے والے طلبا کی حمایت کی، جبکہ سلمان خان نے بھی اپنے بیان میں متاثرہ طلبا سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے احتجاج کو پُرامن قرار دیا اور تعلیم جیسے اہم معاملے کو سیاسی رنگ نہ دینے پر زور دیا۔