پاکستان کی نامور ماہرِ تعلیم، محقق، ادیبہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا وفات پا گئیں۔ ان کے انتقال کی خبر نے علمی، ادبی اور سماجی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑا دی۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ کا شمار پاکستان کے ان ممتاز دانشوروں میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی زندگی تعلیم، تحقیق، خواتین کے حقوق اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ نہ صرف ایک معروف ماہرِ تعلیم تھیں بلکہ پاکستان میں انسانی حقوق اور صنفی برابری کے حوالے سے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد علمی اداروں کے ساتھ وابستگی اختیار کی اور کئی دہائیوں تک تدریس و تحقیق کے شعبے سے منسلک رہیں۔ وہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی سمیت مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریسی فرائض انجام دیتی رہیں۔ ان کے شاگرد آج مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
وہ انسانی حقوق کے حوالے سے کئی قومی کمیشنز اور تھنک ٹینکس کا حصہ رہیں، جہاں انہوں نے تعلیم میں صنفی مساوات، خواتین کی خودمختاری، اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے متعدد پالیسی سفارشات تیار کیں۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ کی علمی تحریریں اور تقاریر نہ صرف تعلیمی نصاب کا حصہ بنیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے فکری رہنمائی کا ذریعہ بھی رہیں۔ انہیں کئی ملکی و غیر ملکی ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔
سماجی کارکنوں، ماہرینِ تعلیم اور صحافتی حلقوں نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا خلا طویل عرصے تک پورا نہیں ہو سکے گا۔ ان کی خدمات پاکستان میں تعلیم اور انسانی حقوق کے فروغ کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ کی نمازِ جنازہ اور تدفین سے متعلق انتظامات کا اعلان ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے بعد میں کیا جائے گا۔