دبئی ایئرشو 2025 میں ایک غیر معمولی لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب بھارتی نیوی کے افسران کو پاکستان کے جدید ترین جے ایف۔17 تھنڈر بلاک تھری لڑاکا طیارے کی تصاویر لیتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
جے ایف۔17 بلاک تھری، جسے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چین کی چنگدو ایئرکرافٹ کارپوریشن نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے، کو پاکستان کے اب تک کے سب سے جدید ملٹی رول لڑاکا طیارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
جدید اویونکس، الیکٹرانک وارفیئر اپ گریڈز، اے ای ایس اے ریڈار اور نئی نسل کے درستگی سے نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کی وجہ سے یہ طیارہ بین الاقوامی وفود کی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔

پاکستانی طیارے جے ایف تھنڈر بلاک تھری وہ طیارہ ہے جس نے 7 مئی کو بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کا غرور خاک میں ملایا تھا اور اس کے 3 جدید ترین رافیل لڑاکا طیاروں سمیت 7 طیارے مار گرائے تھے۔
View this post on Instagram
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی یہ تصاویر اور ویڈیو کے مناظر نہ صرف عالمی شرکا کے لیے حیران کن تھا بلکہ اس نے خطے میں جاری فضائی مقابلے کی حقیقت پر کئی دلچسپ سوالات بھی کھڑے کیے ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان دہائیوں سے جاری مسابقت کے تناظر میں بھارتی افسران کی اس قدر گہری دلچسپی کئی حلقوں کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت اور بھارتی افواج پاکستان کی نئی دفاعی ترقی سے یقیناً مرعوب نظر آتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی اربوں ڈالر کی خریداریوں، جیسے رافیل جٹ پروگرام، کے باوجود خطے میں فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کر سکا اور جے ایف۔17 بلاک تھری کی کارکردگی نے اس فرق کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

گذشتہ برسوں میں بھارت نے اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کی کوشش کی، مگر تکنیکی مسائل، تاخیر، مہنگے سودوں جیسے مسائل نے اس رفتار کو کم کیا ہے۔
اس کے مقابلے میں پاکستان نے کم لاگت، جدید ٹیکنالوجی اور تیز رفتار پیداوار کے امتزاج سے اپنی صلاحیت میں وہ اضافہ کیا ہے جسے عالمی مبصرین مسلسل سرا ہا رہے ہیں۔
نمائش میں موجود حکام کے مطابق طیارے کو اس کے مکمل ایئر ٹو ایئر اور ایئر ٹو سرفیس ہتھیاروں کے پیکج کے ساتھ پیش کیا گیا، جن میں پی ایل۔15 ای بی وی آر میزائل اور سی ایم۔400 اے کے جی، اے آر ہائی اسپیڈ ایئر ٹو گراؤنڈ، اینٹی شپ میزائل شامل تھے۔
شرکا نے بتایا کہ یہ جدید لڑاکا طیارہ پاکستان کی فضائی جنگی صلاحیت اور بحری حملہ کرنے کی قوت کو بڑھانے کی اسٹریٹجک جدید کاری کا حصہ ہیں۔ نمائش کے شرکا نے پی ایل۔15 ای کی بلند فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اور سی ایم۔400 اے کے جی، اے آر کی تیز رفتار حملہ آور خصوصیات کو اجاگر کیا، اگرچہ غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں کی حقیقی کارکردگی کے بارے میں قابلِ تصدیق ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔
بھارتی افسران کی موجودگی نے میڈیا کی خاص توجہ حاصل کی، کیونکہ بھارت اور پاکستان دفاعی میدان میں روایتی طور پر سخت حریف ہیں۔ تاہم عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی نمائش میں حریف ممالک کے افسران کا ایک دوسرے کے پلیٹ فارمز کا معائنہ کرنا غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ یہ ایونٹس نئی عسکری ٹیکنالوجیز کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔


