ایران ، مظاہروں کے پس پردہ حقائق سامنے آ گئے، کون سی قوتیں کارفرما جا نئے، چشم کشا رپورٹ جاری

ایران ، مظاہروں کے پس پردہ حقائق سامنے آ گئے، کون سی قوتیں کارفرما جا نئے، چشم کشا رپورٹ جاری

ایران میں جاری مظاہروں کے دوران عوامی شکایات اور سیکیورٹی صورتحال کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق، حالیہ دنوں میں مسلح افراد اور بیرونی حمایت یافتہ بدامنی کے خلاف خصوصی آپریشن کیے گئے۔ ان آپریشنز کا مقصد عوام اور ملک میں امن و امان کو یقینی بنانا تھا۔

پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق بسیج انفارمیشن سسٹم کے ذریعے چار لاکھ سے زائد عوامی شکایات موصول ہوئیں۔ موصول شدہ شکایات میں سیکیورٹی خلاف ورزیوں، تحزیب کاری اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی۔ بعض اطلاعات کی بنیاد پر گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں تاکہ ملک میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کو قابو میں لایا جا سکے۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ بسیج انفارمیشن سسٹم مظاہرین کے متعلق معلومات جمع کرنے اور عوامی مسائل کو سراہنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، تاکہ ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کی فوری نشاندہی اور بروقت کارروائی کی جا سکے۔

ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہرے اب بڑے شہروں میں شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں تہران، مشہد، تبریز، قم اور ہمدان سمیت کئی شہروں میں مظاہرین نے سڑکوں پر ریلیاں نکالیں اور شہری مراکز پر قبضے کی تیاری شروع کردی۔

مزید پڑھیں: عالمی آئل مارکیٹ ہل جائیگی ،امریکہ ایران پرحملہ نہ کرے،سعودیہ، قطر اور عمان نے خبردار کردیا

مظاہروں کے دوران حکام نے ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کیا جس نے مظاہرین کے خلاف تشدد اور کریک ڈاؤن کو چھپانے کا امکان بڑھا دیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپس کے مطابق اب تک کم از کم 51 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، متعدد زخمی ہوئے ہیں اور سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کی آنکھوں پر جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی رپورٹس بھی موصول ہوئیں۔

editor

Related Articles