پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد مارچ کے خلاف سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں نے ایک منظم اور تیز مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ’ایکس‘ اور ’فیس بک‘ پر پی ٹی آئی کے احتجاج سے متعلق حقائق پر مبنی پوسٹس نے پی ٹی آئی کے بیانیے کو ہوا میں اڑا کر رکھ دیا ہے، یہ ویڈیوز اور پوسٹس پی ٹی آئی کے لیے ایک سخت چیلنج بن کر سامنے آئی ہیں۔
پی ٹی آئی کی اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کے اعلانات کے ساتھ ہی سیاسی محاذ آرائی اب سڑکوں سے نکل کر ڈیجیٹل دنیا میں عروج پر پہنچ چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم اپنے خلاف ویڈیوز اور پوسٹوں کو مسلسل جعلی قرار دے رہی لیکن اس کے باوجود صارفین کی جانب سے ان ویڈیوز اور پوسٹس کی اپ لوڈنگ جاری ہے۔
سوشل میڈیا کے مقبول پلیٹ فارمز جن میں ’ایکس‘، ’فیس بک‘ اور ’انسٹاگرام‘ ایکٹیوسٹس کی جانب سے مسلسل ایسی پوسٹس اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن میں پی ٹی آئی کے مارچ اور پالیسیوں پر کڑی تنقید شامل ہے۔
ان صارفین کا دعویٰ ہے کہ وہ حقائق اور ٹھوس شواہد کے ساتھ اس احتجاج کے ان مقاصد کو بے نقاب کر رہے ہیں، جنہیں وہ ملکی مفاد کے منافی سمجھتے ہیں۔ ان پوسٹس میں تسلسل کے ساتھ یہ بیانیہ فروغ دیا جا رہا ہے کہ اس مارچ کا مقصد جمہوری جدوجہد سے زیادہ ریاست میں انتشار پھیلانا ہے۔
اے آئی ویڈیوز کی بارش اور پی ٹی آئی کی پریشانی
صارفی کی جانب سے سب سے خاص اور حیران کن بات مصنوعی ذہانت یعنی ’اے آئی‘ ٹیکنالوجی کا بے تحاشا استعمال ہے۔ صارفین کی جانب سے اے آئی کے ذریعے تیار کردہ طنزیہ اور تنقیدی ویڈیوز کی بھرمار نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان منظم پوسٹوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کی اس سوشل میڈیا ٹیم کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج کھڑا کر دیا ہے جو ماضی میں اپنا بیانیہ منوانے میں ثانی نہیں رکھتی تھی۔
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے خلاف بیانیہ اس قدر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے حامیوں اور ٹیموں کو ان دعوؤں کو غلط ثابت کرنے کے لیے فوری طور پر کوئی مؤثر جوابی حکمتِ عملی سجھائی نہیں دے رہی۔
قیادت کا ذہنی تذبذب اور تنظیمی چیلنج
ڈیجیٹل محاذ پر ہونے والی اس غیر متوقع یلغار نے محض سوشل میڈیا ونگ ہی نہیں بلکہ پارٹی قیادت کو بھی شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک جانب زمینی سطح پر کارکنوں کو متحرک کر کے مارچ کو کامیاب بنانے کا چیلنج درپیش ہے، تو دوسری جانب آن لائن پلیٹ فارمز پر اپنی مقبولیت اور بیانیے کی جنگ میں ناکامی کا خوف بھی پیدا ہو گیا ہے۔ اس دہری اور پیچیدہ صورتحال نے پارٹی صفوں میں ایک واضح ذہنی تذبذب کو جنم دیا ہے۔
سوشل میڈیا اور پاکستانی سیاست کا تعلق
پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ میں سوشل میڈیا کا کردار ہمیشہ فیصلہ کن رہا ہے۔ تحریکِ انصاف کو روایتی طور پر ڈیجیٹل محاذ پر ملک کی سب سے مضبوط، منظم اور جارح جماعت تصور کیا جاتا رہا ہے۔
ماضی کے تمام سیاسی اور احتجاجی مراحل میں پی ٹی آئی نے ڈیجیٹل بیانیے کی جنگ میں ہمیشہ برتری حاصل کی ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال اس لحاظ سے یکسر مختلف ہے کہ اب پی ٹی آئی کے مخالف کیمپ بھی جدید ٹیکنالوجی بالخصوص اے آئی ٹولز اور منظم ڈیجیٹل حکمتِ عملی سے لیس ہو کر میدان میں اتر آیا ہے۔
یہ ملکی سیاست میں شاید پہلی بار ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنے ہی سب سے مضبوط سمجھے جانے والے قلعے میں اس قدر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسلام آباد مارچ کے تناظر میں ہونے والی یہ ڈیجیٹل محاذ آرائی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ جدید دور میں سیاست محض جلسے جلوسوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ عوام کی رائے سازی براہِ راست ان کی موبائل سکرینز پر ہو رہی ہے۔
اس مہم میں حقائق پر مبنی دلائل اور طنز سے بھرپور اے آئی ویڈیوز کے امتزاج نے تحریکِ انصاف کے روایتی جارحانہ انداز کو دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا ہے۔
جب ایک ایسی جماعت جس کی بڑی سیاسی عمارت سوشل میڈیا کے بیانیے پر استوار ہو، اسے ڈیجیٹل دنیا میں اس طرح کا ٹف ٹائم ملے، تو اس کے اثرات براہِ راست زمینی احتجاج کی کامیابی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
بیانیے کا یہ نیا ٹکراؤ ثابت کر رہا ہے کہ اگر سیاسی قوتوں کے پاس ہر پل بدلتی ہوئی جدید ٹیکنالوجی اور مخالف بیانیے کا فوری و مؤثر جواب نہ ہو، تو ان کا بنایا ہوا برسوں کا تاثر چند دنوں کے اندر بکھر سکتا ہے۔