پی ٹی آئی دہشت گرد تنظیموں کے سیاسی ونگ کے طور پر کام کر رہی ہے ، اختیار ولی نے شواہد سامنے رکھ دیے

پی ٹی آئی دہشت گرد تنظیموں کے سیاسی ونگ کے طور پر کام کر رہی ہے ، اختیار ولی نے شواہد سامنے رکھ دیے

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکن ذاکر اللہ کے ٹی ٹی پی سے مبینہ روابط بھی سامنے آئے ہیں۔

اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ ذاکر اللہ پی ٹی آئی کے متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ موجود رہا ہے اور پارٹی کے مارچ، دھرنوں اور جلسوں میں بھی شریک ہوتا رہا ہے۔ ان کے مطابق ذاکر اللہ کا کزن صدام ٹی ٹی پی کا کمانڈر ہے، جس سے پی ٹی آئی کارکن اور دہشت گرد تنظیم کے درمیان رشتہ داری اور روابط کا معاملہ سامنے آتا ہے۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ خارجہ، دہشت گرد تنظیمیں، ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔ ان کے بقول یہ وہ عناصر ہیں جو ملک میں دہشت گردی، مساجد اور نمازیوں پر حملوں، پاک فوج اور پولیس کو نشانہ بنانے اور بازاروں میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے میں ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی اسلام آباد کی جانب مارچ کرتی ہے تو وفاقی دارالحکومت میں حفاظتی اقدامات اس لیے کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کے بقول پی ٹی آئی کے جلسوں، ریلیوں اور مارچوں میں خارجی عناصر شامل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب، میجر جنرل جواد احمد کی تعیناتی کی حقیقت سامنے آگئی

اختیار ولی خان نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ستمبر میں حیات آباد ٹول پلازہ کے قریب رنگ روڈ پر انڈر پاس کی افتتاحی تقریب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک نوجوان وزیراعلیٰ کی گاڑی کے قریب آیا، گاڑی پر چڑھا، انہیں گلے لگایا اور پھر مجمعے میں واپس چلا گیا۔ ان کے مطابق اس موقع پر عمران خان زندہ باد  کے نعرے بھی لگائے گئے۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ مذکورہ نوجوان کے بھائی سیف محمد، عرف ایوبی، کو ٹی ٹی پی کا کمانڈر قرار دیا گیا ہے اور وہ مبینہ طور پر فتنہ الخوارج سے وابستہ تربیتی سرگرمیوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گرد تنظیموں کے سیاسی ونگ کے طور پر کام کر رہی ہے اور سوال اٹھایا کہ تحریک انصاف ان شواہد سے کس طرح انکار کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی اداروں اور عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو دہشت گرد عناصر سے اپنے روابط کے حوالے سے واضح پوزیشن اختیار کرنا ہوگی۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles