بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ سے 2 پاکستانیوں کی شہادت، انڈین ناظم الامور کی دفترِ خارجہ طلبی اور شدید احتجاج

بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ سے 2 پاکستانیوں کی شہادت، انڈین ناظم الامور کی دفترِ خارجہ طلبی اور شدید احتجاج

بیدیاں سیکٹر پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی بلااشتعال فائرنگ سے 2 نہتے پاکستانی شہریوں کی شہادت پر پاکستان نے انڈین ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ پاکستان نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ملوث بھارتی اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 2 اکتوبر 2026 کو انٹرنیشنل بارڈر کے بیدیاں سیکٹر میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

بی ایس ایف کے اہلکاروں نے غیر مسلح اور نہتے پاکستانی شہریوں پر طاقت کا وحشیانہ اور غیر متناسب استعمال کیا جس کے نتیجے میں 2 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ پاکستان نے ان شہریوں کو ’درانداز‘ بنا کر پیش کرنے کی بھارتی کوششوں کو سختی سے رد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی جارحیت، آزاد کشمیر میں 21 افراد شہید، 123 زخمی ہوئے، 287 مکانات، 21 دکانیں تباہ

دفترِ خارجہ نے بھارتی ناظم الامور پر واضح کیا کہ اس سنگین واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتبار تحقیقات کروائی جائیں۔

مزید برآں پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کے نتیجے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کی جانے والی قانونی کارروائی سے حکومتِ پاکستان کو باقاعدہ آگاہ کیا جائے۔

انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی

سفارتی سطح پر ریکارڈ کرائے گئے اس احتجاج میں باور کرایا گیا ہے کہ یہ اندوہناک واقعہ بنیادی انسانی حقوق، بالخصوص جینے کے حق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت تنازعات اور سرحدی معاملات میں بھی عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

پاکستان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ شہریوں کی جان کے تحفظ کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کو بری طرح پامال کیا گیا ہے۔

سرحدی کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات

پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کے واقعات ماضی میں بھی شدید کشیدگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔

اگرچہ فروری 2021 میں دونوں ممالک کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر سختی سے عمل درآمد کی تجدید کی گئی تھی، جس کے بعد حالات میں خاصی بہتری آئی تھی۔

تاہم وقتاً فوقتاً انڈین فورسز کی جانب سے فائرنگ اور سرحدی خلاف ورزیاں اس معاہدے کی روح کو مجروح کرتی رہی ہیں۔ بیدیاں سیکٹر میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کا یہ تازہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے سرحدی کشیدگی کو ایک بار پھر ہوا دی ہے۔

دو طرفہ تعلقات اور سرحدی سلامتی

حالیہ سرحدی واقعہ محض ایک مقامی یا انفرادی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ یہ سرحدوں پر تعینات فورسز کے انتہائی جارحانہ مائنڈ سیٹ کا مظہر ہے۔

مزید پڑھیں:قصور بارڈر پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ، 2 نہتے پاکستانی شہری شہید

بین الاقوامی بارڈر پر غیر مسلح شہریوں کے خلاف مہلک ہتھیاروں کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے طریقہ کار میں عام شہریوں کے جانی تحفظ کو کس قدر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

جاں بحق افراد پر فوری طور پر ’دراندازی‘ کا لیبل لگا دینا دراصل اس غیر متناسب طاقت کے استعمال کو قانونی اور اخلاقی جواز فراہم کرنے کی ایک روایتی حکمت عملی ہے۔

بین الاقوامی قانون اور جنیوا کنونشنز عام شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنانے کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات سے نہ صرف دوطرفہ سفارتی تعلقات پر جمی برف پگھلنے کے امکانات معدوم ہوتے ہیں بلکہ خطے میں ایک ایسا مستقل اور غیر ضروری تناؤ برقرار رہتا ہے جو کسی بھی وقت کسی بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ پڑوسی ملک محض الزام تراشی کے بجائے اپنے سرحدی ضوابط پر نظرِ ثانی کرے، کشیدگی سے گریز کرے اور سرحدی معاہدوں کا حقیقی معنوں میں احترام یقینی بنائے۔

Related Articles