پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب، میجر جنرل جواد احمد کی تعیناتی کی حقیقت سامنے آگئی

پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب، میجر جنرل جواد احمد کی تعیناتی کی حقیقت سامنے آگئی

پی ٹی آئی کی طرف سے کیا جانے والا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب اور غلط ثابت ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی میجر جنرل کی اقوام متحدہ میں اہم تعیناتی کو پاکستان کے مستقل مندوب کے عہدے سے جوڑنے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم اقوام متحدہ کے سرکاری ریکارڈ نے اس دعوے کی حقیقت واضح کردی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کے میجر جنرل جواد قاضی کو اگست 2026 میں اقوام متحدہ کے مغربی صحارا میں امن مشن MINURSO کا نیا فورس کمانڈر مقرر کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی امن مشن کی ویب سائٹ پر بھی ان کی تعیناتی کی باقاعدہ تصدیق موجود ہے۔

میجر جنرل جواد قاضی نے بنگلہ دیش کے میجر جنرل ایم ڈی فخر الاحسن کی جگہ MINURSO کے فورس کمانڈر کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ یہ اقوام متحدہ کے ایک اہم امن مشن کی فوجی کمان ہے اور پاکستان کی اقوام متحدہ کی امن کاری میں طویل خدمات کا تسلسل بھی ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا عہدہ اس سے بالکل الگ ہے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق سفیر عاصم افتخار احمد اپریل 2025 سے پاکستان کے مستقل مندوب ہیں۔ اقوام متحدہ نے ان کی جانب سے مستقل مندوب کی حیثیت سے 2026 میں متعدد سرکاری دستاویزات بھی جاری کی ہیں۔

یوں سوشل میڈیا پر میجر جنرل جواد قاضی کو پاکستان کا اقوام متحدہ میں مستقل مندوب قرار دینا درست نہیں۔ ان کی اصل ذمہ داری MINURSO کے فورس کمانڈر کی ہے، جبکہ پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک سیکیورٹی فورسز کا خوفناک کریک ڈاون ، 11 دہشت گرد جہنم واصل

یہ فرق اس لیے بھی اہم ہے کہ اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ایک سفارتی عہدہ ہے، جبکہ فورس کمانڈر اقوام متحدہ کے امن مشن کے فوجی دستے کی کمان کرتا ہے۔ دونوں عہدوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا حقائق کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ کی امن کاری میں طویل عرصے سے اہم کردار ادا کرتا آیا ہے۔ فروری 2026 میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ میں بتایا تھا کہ 250,000 سے زائد پاکستانی امن دستوں کے اہلکار 48 مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

لہٰذا میجر جنرل جواد قاضی کی MINURSO کے فورس کمانڈر کے طور پر تعیناتی پاکستان کے لیے ایک اہم فوجی اور سفارتی اعزاز ضرور ہے، لیکن اسے پاکستان کے مستقل مندوب کے عہدے سے جوڑنا درست نہیں۔ دستیاب اقوام متحدہ کے سرکاری ریکارڈ اس معاملے میں واضح ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles