پی ٹی آئی کی اسلام آباد پر چڑھائی، کالعدم ٹی ٹی پی کی کھل کر حمایت، دونوں کا ایجنڈا ایک، تمام حقائق کھل کر سامنے آگئے

پی ٹی آئی کی اسلام آباد پر چڑھائی، کالعدم ٹی ٹی پی کی کھل کر حمایت، دونوں کا ایجنڈا ایک، تمام حقائق کھل کر سامنے آگئے

کالعدم پاکستان تحریک طالبان (ٹی ٹی پی ) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کی حمایت اور دونوں کا دشمن ایک ہونے کے دعوے نے ملک میں ایک نئی سیاسی اور سیکیورٹی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک کا ایجنڈا اسلام آباد پر چڑھائی اور عدم استحکام اور دوسری کا ایجنڈا ملک میں دہشتگردی کے ذریعے ملک میں تباہی لانا ہے، کٹھ جوڑ کے تمام حقائق کھل کر سامنے آگئے۔

عوامی حلقوں اور ناقدین کی جانب سے اس مبینہ گٹھ جوڑ، عمران خان کی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگردوں کو واپسی ملک میں آباد کرنے کی پالیسی اور پھر اس پر صوبائی حکومت کی خاموشی اور پالیسی کے تحفظ پرسنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

آزاد ڈیجیٹل کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق عام آدمی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب کوئی دہشتگرد گروہ کسی سیاسی جماعت کے احتجاج کی کھل کر حمایت کرے اور دونوں کے ایک ہی مشترکہ دشمن کا دعویٰ کرے، تو یہ صورتحال سنگین نوعیت کے شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو کالعدم ٹی ٹی پی جیسی تنظیم کی حمایت کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:انتشار، بدامنی، شر پسندی سہیل آفریدی کا وطیرہ بن گیا، حکومتی اور پی ٹی آئی وفد کے مذاکرات کے دوران ہی وزیراعلیٰ کے پی کا احتجاجی لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان

تحقیق کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان کی ماضی کی تیار ایک ویڈیو پھر منظر عام پر آ گئی اور تیزی سے وائرل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگی۔

 اس ویڈیو میں کالعدم ٹی ٹی پی کا ایک عہدیدار یہ اعلان کرتا سنائی دے رہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی فوج سے حساب برابر کیا جائے۔ 

ویڈیو میں الزام عائد کیا گیا کہ فوج نے ان کے ہزاروں لوگوں کو مارا اور ان کی ’سیاسی جماعت‘ (پی ٹی آئی) کو نقصان پہنچایا ہے۔ شدت پسندوں کی جانب سے واضح کیا گیا کہ ’پی ٹی آئی‘ کے ساتھ ان کا اتحاد اس بنیاد پر ہے کہ دونوں کا ’دشمن‘ ایک ہی ہے۔

صوبائی حکومت کا مؤقف اور انسداد دہشتگردی سے دوری

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے رویے سے یہ بات کھل کر عیاں ہو چکی ہے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ایجنڈے پر ہی کار فرما ہے۔ پی ٹی آئی کے صوبائی وزیراطلاعات شفیع جان کی بھی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغانستان اور طالبان کے ملوث ہونے کے ثبوت دیے جائیں، تو انہوں نے برملا اعتراف کیا کہ ہاں، ہم اس کے ثبوت مانگ رہے ہیں۔

اب عام آدمی ہی مطالبہ کر رہا ہے کہ صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ محض عمران خان کی رہائی پر مرکوز ہے، جبکہ دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات یا بیانات سامنے نہیں آ رہے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان تحریک انصاف کی ’بی ٹیم‘ کے طور پر کام کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست اور سیاسی تلخیوں کے سائے میں ملکی استحکام کسی صورت حاصل نہیں کیا جا سکتا، امیر حیدر ہوتی

عام رائے میں یہ بات کھل کر کہی جا رہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا ملک مخالف ایجنڈا ایک ہی ہے، ایک طرف کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد آئے روز پاکستان کے معصوم شہریوں کا قتل عام کر رہے ہیں، پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کھلم کھلا اسلام آباد پر چڑھائی کی دھمکیاں دے رہی ہے، کبھی 9 مئی جیسے واقعات میں ملک کی املاک کو سنگین نقصان پہنچا رہی ہے تو کبھی اسلام آباد کو ’سومنات کا مندر‘ قرار دے رہی ہے۔

عمران خان کی مذاکرات اور آباد کاری کی پالیسی (2021–2022)

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور دہشتگرد گروپ تحریک طالبان پاکستان کے مابین تعلق کی نوعیت پاکستانی سیاست کا ایک متنازع اور حساس موضوع رہا ہے۔ 

عمران خان کے بطور وزیراعظم دورِ حکومت میں ٹی ٹی پی کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کی پالیسی اپنائی گئی۔ اگست 2021 میں کابل میں افغان طالبان کے برسرِاقتدار آنے کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے مستقل امن معاہدے کے لیے کابل کی ثالثی کا سہارا لیا۔

اس وقت عمران خان کا یہ نظریہ تھا کہ فوجی آپریشنز اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ انہوں نے مسلسل شورش سے بچنے کے لیے لگ بھگ 30 سے 40 ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو سابقہ قبائلی علاقوں (فاٹا) میں دوبارہ آباد کرنے کی متنازع حکمت عملی اپنائی۔ اعتماد سازی کے لیے عارضی جنگ بندی کی گئی اور ٹی ٹی پی کے درجنوں قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

دہشتگردی کا دوبارہ ابھرنا اور سیاسی الزامات

اس پالیسی کے نتائج انتہائی بھیانک ثابت ہوئے اور پاکستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا۔ وقت نے ثابت کیا کہ اس آباد کاری کی حکمت عملی نے مسلح دہشتگردوں کو ملک میں واپس آنے اور اپنے سلیپر سیلز اور نیٹ ورکس دوبارہ قائم کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا۔

عام آدمی کی جانب سے اب پی ٹی آئی پر دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے کا الزام تواتر سے لگایا جاتا رہا ہے۔ 2021 سے بہت پہلے ہی عمران خان کو اسی مبینہ حمایت کے باعث ’طالبان خان‘ کا نام بھی دیا جا چکا ہے۔ 

سربکف مہمند کی پی ٹی آئی احتجاج کی حمایت

جیو نیوز کی 19 مئی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کمانڈر سربکف مہمند نے بھی عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کے پُرتشدد واقعات میں شریک افراد کی تعریف اور حمایت کی تھی۔

اس کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی نے حکومت سے مذاکرات کے لیے 5 رکنی کمیٹی میں عمران خان کا نام بھی شامل کیا تھا۔ ترجمان شاہداللہ شاہد نے غیر ملکی نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ کمیٹی تنظیم کی طرف سے مؤقف پیش کرے گی۔ یہ مذاکراتی نمائندگی کے لیے نامزدگی تھی۔

احسان اللہ احسان کی حمایت اور نیا تنازع

حالات میں مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب 7 اکتوبر 2025 کو 2014 کے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) حملے کے ماسٹر مائنڈ اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد احسان اللہ احسان نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی کھلے عام حمایت کا اعلان کر دیا۔ 

یہ بھی پڑھیں:لانگ مارچ کی آڑ میں بنوں طرز کا حملہ؟ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کا خطرناک پلان بے نقاب کر دیا

عام آدمی کا یہ سوال ہے کہ آیا اس طرح کھلم کھلا عمران خان کی پالیسی کی حمایت کا آخر کیا مطلب ہے کہ ایک دہشتگرد ایک سیاسی جماعت کی اس طرح حمایت کر رہا ہے۔

اس پیش رفت نے ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا اور متعدد حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ اب سنگین جرائم میں ملوث دہشتگرد بھی عمران خان کی حمایت میں سامنے آ رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی یہ انکشاف بھی ہوا کہ احسان اللہ احسان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ خود ساختہ بھگوڑے عادل راجہ دونوں کو پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے میں ملوث پایا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر عادل راجہ کے ساتھ ایک گفتگو میں احسان اللہ احسان نے واضح طور پر کہا تھا کہ عمران خان ’ایک حقیقت‘ ہیں۔ مزید برآں اس دہشتگرد نے افغانستان کے حوالے سے عمران خان کے بیانات کی کھلے لفظوں میں تعریف بھی کی تھی۔

ریاستی امور اور سیکیورٹی معاملات کے تناظر میں دیکھا جائے تو کسی بھی عسکریت پسند گروہ اور مرکزی دھارے کی سیاسی جماعت کے درمیان بیانیے کی ہم آہنگی ریاستی رٹ کے لیے ایک غیر معمولی خطرہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں:بدامنی کا منصوبہ ناکام !ہر سال اسلام آباد کو یرغمال بنانے کا ڈرامہ نہیں چلے گا،اسپیکر پنجاب اسمبلی کا پی ٹی آئی کو دو ٹوک پیغام

جب ایک کالعدم تنظیم کسی سیاسی تحریک کے احتجاج کو ہائی جیک کرنے یا اس کی آڑ میں ریاستی اداروں کے خلاف مسلح کارروائیوں کا جواز تراشنے کی کوشش کرتی ہے، تو اس سے نہ صرف سیاسی جماعت کی ساکھ مجروح ہوتی ہے بلکہ قومی سلامتی کے خطرات میں بھی کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ 

ماضی کی وہ پالیسیاں جن کے تحت عسکریت پسندوں کو رعایت دی گئی، آج کے سیکیورٹی بحران کی ایک بڑی وجہ سمجھی جا سکتی ہیں۔ بیرونِ ملک بیٹھے عناصر اور فرار دہشتگردوں کا ایک ہی پیج پر آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہائبرڈ وار فیئر اور سیاسی عدم استحکام کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ایک واضح اور دو ٹوک ریاستی بیانیے کی اشد ضرورت ہے۔

Related Articles