کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعے کے بعد حملے کا ماسٹر مائنڈ ایک “مسنگ پرسن” نکلا، جس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انسانی حقوق کے نام پر یکطرفہ بیانیہ چلانے دانشوروں پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے قتل اور دہشتگردی کے متاثرین کے لیے بھی اسی شدت اور تواتر کے ساتھ آواز اٹھنی چاہیے جس طرح دیگر معاملات پر اٹھائی جاتی ہے۔
عوامی سطح پر یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کا تصور کسی ایک طبقے یا مخصوص افراد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا دائرہ تمام شہریوں کے تحفظ اور جان و مال کی حفاظت تک وسیع ہونا چاہیے۔
“مسنگ پرسن” ہونا کسی بھی فرد کی معصومیت کا قطعی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا، اگر کوئی شخص بے گناہ ہے تو ریاستی ادارے اور قانون اسے مکمل تحفظ فراہم کرنے کے پابند ہیں، تاہم اگر کسی کے خلاف دہشتگردی یا بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہوں تو اس کے لیے قانون کے مطابق جوابدہی اور کارروائی بھی ناگزیر ہے۔