’میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل‘صدر ٹرمپ اور عسکری قیادت کے درمیان روابط نے پاک امریکا تعلقات کا رخ ہی بدل دیا، فارن پالیسی

’میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل‘صدر ٹرمپ اور عسکری قیادت کے درمیان روابط نے پاک امریکا تعلقات کا رخ ہی بدل دیا، فارن پالیسی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ اور عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کے غیر معمولی کردار سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں اور اسے دُنیا کی بہترین سفارتکاری بھی قرار دیا ہے۔

امریکی جریدے ‘فارن پالیسی’ میں شائع ہونے والی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں اور خطے کے دیگر اہم معاملات میں فعال کردار کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن ایک معتبر اسٹرٹیجک طاقت کے طور پر ابھر رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں پاکستان کی فعال سفارتکاری

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف 2 سال پہلے تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی قسم کی ثالثی یا امن مذاکرات میں اسلام آباد کا ایسا متحرک کردار ناقابلِ تصور تھا، تاہم حالیہ سفارتی مہم نے ان تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی، تیل کے بحران سے کن ممالک کو سب سے زیادہ خطرہ ؟ برطانوی جریدے کا اہم انکشاف

امریکی جریدے  نے لکھا ہے کہ پاکستانی عسکری قیادت نے واشنگٹن کے اہم حلقوں میں ملک کی سفارتی حیثیت کو مؤثر بنانے اور ساکھ کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

جنرل عاصم منیر عالمی سفارتی حکمتِ عملی کے اہم محور قرار

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ براہِ راست رابطوں اور ایران ثالثی سمیت پاکستان کی وسیع تر سفارتی حکمتِ عملی کے ایک اہم محور کے طور پر ابھرے ہیں۔

جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کوششوں کے نتیجے میں امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ ترین حلقوں میں پاکستانی قیادت کے وژن کو سراہا گیا ہے، جبکہ پاکستانی سفارتی کارندوں نے پاک بھارت جنگ بندی کے عمل میں پیشرفت کا کریڈٹ امریکی صدر کو دے کر گہری سیاسی و سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے واشنگٹن کے ساتھ اعتماد کا رشتہ مزید بحال ہوا ہے۔

پاکستان نے امریکا، ایران اور چین کے درمیان توازن قائم رکھا

’فارن پالیسی‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی اس نازک مہم میں پاکستان نے امریکا، ایران، چین اور خطے کی دیگر بڑی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنی جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) صلاحیت کو نمایاں کیا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کی رائے کے مطابق، موجودہ عسکری قیادت کی فیصلہ سازی واضح وژن اور مضبوط سمت پر مبنی ہے، جس نے ریاستی ترجیحات کو زیادہ مربوط اور مؤثر بنایا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی منظم حکمتِ عملی کے نتیجے میں عالمی برادری بالخصوص بڑی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کی سفارتی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔

پاکستان تاریخی طور پر مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے درمیان ایک طویل عرصے تک ’پل‘ کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ 1970 کی دہائی میں امریکا اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات کی استواری (سیکریٹ چینل) کا آغاز بھی اسلام آباد ہی کے ذریعے ہوا تھا۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی : امریکی صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کیا؟ وال اسٹریٹ جرنل کا اہم انکشاف

اسی طرح، ایران اور سعودی عرب یا ایران اور امریکا کے درمیان جب بھی خلیجِ فارس میں تناؤ بڑھا، پاکستان نے ہمیشہ خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی، کیونکہ خلیج میں بدامنی کا براہِ راست اثر پاکستان کی توانائی کی سیکیورٹی اور معیشت پر پڑتا ہے۔

موجودہ دور میں، جب امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ قائم ہے، واشنگٹن کا زیادہ تر فوکس ’ڈیل میکنگ‘ اور خطوں سے امریکی عسکری بوجھ کم کرنے پر ہے۔

دوسری طرف، ایران کو شدید اقتصادی پابندیوں اور جیو پولیٹیکل دباؤ کا سامنا ہے۔ چین، جو کہ ایران کا ایک بڑا اقتصادی شراکت دار ہے اور پاکستان کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے، بھی خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔

 پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ اور گہرے تاریخی تعلقات ہیں، جبکہ امریکا کے ساتھ اس کا دیرینہ سیکیورٹی تعاون ہے۔ اس منفرد پوزیشن کی وجہ سے، جب بھی امریکا اور ایران کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی (خفیہ سفارتی مذاکرات) کی ضرورت پڑتی ہے، تو اسلام آباد کا جغرافیائی مقام اور عسکری اثر و رسوخ دونوں فریقین کے لیے ایک قابلِ اعتماد ذریعہ بن کر سامنے آتا ہے۔

پاک امریکا تعلقات میں ‘سیکیورٹی پر مبنی’ ڈپلومیسی کا تسلسل

امریکی جریدے کی رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ واشنگٹن اب بھی پاکستان کو بنیادی طور پر ایک سیکیورٹی اور عسکری لینز سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سول سفارت کاری کے بجائے عسکری قیادت کے فیصلوں اور واشنگٹن کے دوروں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

 امریکا کے لیے خطے میں دہشت گردی کے خاتمے، افغانستان کی صورتحال اور ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ بڑے تصادم کو ٹالنے کے لیے پاکستانی فوج کی آپریشنل اور سفارتی صلاحیت ہمیشہ ایک اہم اثاثہ رہی ہے۔

Related Articles