مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا کی جانب سے ایران پر مسلسل فوجی حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس سے توانائی کی عالمی منڈی میں بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے۔
برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 90.76 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 84 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم اوردونوں ممالک کے آئے روز ایک دوسرے پر حملوں نے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہےجس کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی جانب راغب ہو رہے ہیں اور خام تیل کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی منڈی کی گہری نظر ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اسی اہم سمندری راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ کسی بھی ممکنہ رکاوٹ یا کشیدگی میں اضافے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے بلکہ اس کے اثرات دنیا بھر میں ایندھن، نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔