دل کا دورہ (ہارٹ اٹیک) اس وقت ہوتا ہے جب دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں خون کا بہاؤ شدید متاثر ہو جائے یا مکمل طور پر رک جائے۔
عام طور پر شریانوں میں چکنائی، کولیسٹرول اور دیگر مواد جمع ہونے سے خون کی روانی میں کمی آتی ہے، جسے پلاک (Plaque) کہا جاتا ہے۔
بعض اوقات یہی پلاک خون کے لوتھڑے (بلڈ کلاٹ) کا باعث بنتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موجودہ دور میں عام استعمال ہونے والی الٹرا پراسیس غذائیں دل کے امراض، ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں۔
امریکن جرنل آف پریوینٹو میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال امراض قلب کے کئی کیسز سے منسلک پایا گیا۔
تحقیق میں 2019 کے دوران کینیڈا میں سامنے آنے والے ہزاروں امراض قلب کے کیسز کا جائزہ لیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ہارٹ اٹیک، فالج اور دیگر بیماریوں کے خطرات میں کن عوامل کا کردار ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ تقریباً 23 سے 38 فیصد تک امراض قلب، جن میں ہارٹ اٹیک اور فالج بھی شامل ہیں، الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال سے تعلق رکھتے ہیں،ماہرین کے مطابق اگر ان غذاؤں کے استعمال میں 20 سے 50 فیصد تک کمی لائی جائے تو ہر سال بڑی تعداد میں امراض قلب کے کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔
الٹرا پراسیس غذاؤں میں فاسٹ فوڈز، ڈبل روٹی، کیک، مٹھائیاں، ٹافیاں، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا شامل ہیں۔
ان غذاؤں کی تیاری کے دوران متعدد مراحل میں پراسیسنگ کی جاتی ہے، جس کے باعث ان میں نمک، چینی، غیر صحت بخش چکنائیاں اور مصنوعی اجزا کی مقدار زیادہ جبکہ فائبر اور مفید غذائی اجزا کم ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان غذاؤں میں موجود زیادہ نمک ہائی بلڈ پریشر کا سبب بن سکتا ہے، جو خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا کر ہارٹ اٹیک کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے اسی طرح زیادہ چینی، ٹرانس فیٹ، کیلوریز اور غیر ضروری پراسیس اجزا بھی جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر ماہرین نے زور دیا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال میں کمی، متوازن خوراک اور قدرتی غذاؤں کو ترجیح دینا ضروری ہے۔