پیٹرول کی قیمتوں پر روزانہ نظرثانی سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟ ماہرِ معیشت نے سب بتا دیا

پیٹرول کی قیمتوں پر روزانہ نظرثانی سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟ ماہرِ معیشت نے سب بتا دیا

ماہرِ معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر روزانہ نظرثانی کا حکومتی فیصلہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہے تاہم جب تک پورے پیٹرولیم سیکٹر میں جامع اصلاحات نہیں کی جاتیں اس کے ثمرات عام صارفین تک نہیں پہنچ سکیں گے۔

ڈاکٹر خاقان نجیب نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں تبدیلی دراصل مارکیٹ کو بتدریج ڈی ریگولیٹ کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس عمل کی کامیابی کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ریگولیٹری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہوگا۔

 یہ بھی پڑھیں :پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اوگرا کا بڑا اقدام

انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث صرف روزانہ یا مختصر مدت کی بنیاد پر قیمتوں میں تبدیلی سے عوام کو فوری اور نمایاں ریلیف ملنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

خڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق نئی پالیسی کے تحت قیمتوں کا تعین صرف ایک دن کی عالمی قیمت کی بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ تقریباً سات روز کی اوسط قیمت کو مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار کی مکمل وضاحت اور شفاف نظام سامنے آنا چاہیے تاکہ عوام اور متعلقہ اداروں کو اس کے طریقہ کار پر کوئی ابہام نہ رہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے پیٹرولیم سیکٹر کو بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی ضرورت ہے جن میں ریگولیٹری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا، ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، مقامی سطح پر تیل و گیس کی تلاش میں اضافہ اور حقیقی مسابقتی مارکیٹ کا قیام شامل ہے۔

ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ عوام کی سب سے بڑی تشویش پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی سے متعلق ہے کیونکہ یہ بالواسطہ ٹیکس امیر اور غریب دونوں سے یکساں وصول کیا جاتا ہےجس سے عام صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :حکومت پیٹرول و ڈیزل پر فی لیٹر کتنا ٹیکس وصول کر رہی ہے؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت نے رواں مالی سال پیٹرولیم لیوی سے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ آمدن حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

ماہرِ معیشت نے تجویز دی کہ حکومت کو عوام پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بھی بات چیت کرنی چاہیے تاکہ بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی لائی جا سکے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حقیقی ریلیف ممکن بنایا جا سکے۔

editor

Related Articles