ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا سے جنگ اس وقت ختم ہو گی جب ایران کو میدان میں برتری حاصل ہو گی، جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل عسکری فتح کے ذریعے ممکن ہے یا پھر مذاکرات کے ذریعے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا درست وقت وہ ہوتا ہے جب آپ فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل کر چکے ہوں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ آپ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں خطرات مول نہیں لے سکتے، فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ہر وقت یہ جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے فائدہ ہو گا یا اس کی قیمت زیادہ بھاری پڑے گی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ کچھ نقصانات کے باوجود اس جنگ میں ایران مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھرا ہے، جنگ کے دوران ایران نے اپنے نظام کی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔
قبل ازیں ترک میڈیا سے گفتگو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ 12 روزہ جنگ سے پہلےایران کو مذاکرات میں لالچ دینے کی کوشش کی گئی، لیکن ایران کو نہ دھمکی دی جا سکتی ہے، نہ لالچ ، ایران کی یورینیم افزودگی کسی صورت فروخت نہیں کی جا سکتی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کے آغاز میں حکام کا ایک دوسرے سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا،جنگ کے باوجود ایران کی پالیسیوں اور اصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے، دنیا کو احساس ہو گیا کہ آبنائے ہرمز ایران کی اصل طاقت ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا نے جنگ شروع کر کے اور ایرانی طاقت کا غلط اندازہ لگا کر غلطی کی ہے، ایران کبھی امریکی دھمکیوں سے نہیں ڈرا، ہم وینزویلا نہیں ہیں، اسرائیل کا خیال تھا وہ مختصر حملے کر کے سب تباہ کردے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ ابتدائی جنگ بندی کی منظوری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے دی، سفارتکاری آزمانے کیلئے ہم مذاکرات میں شامل ہوئے، دوبارہ مذاکرات شروع کرنے یا نہ کرنے پر طویل مشاورت کی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ کئی بار مذاکرات کی کوشش کی اور یہ کوشش جاری رکھیں گے۔