امریکی فوج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا ایک نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے، ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے مختلف علاقوں، خصوصاً بندر عباس،چاہبار اور کنارک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں ۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا نے بندر عباس میں متعدد دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مقامی وقت کے مطابق آج شام چار بجے صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی افواج نے ایران کے خلاف نئے فضائی حملے شروع کیے۔ یہ کارروائی ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہے جنہیں آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں بحری تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ایران کی حملہ آور صلاحیت کو مزید محدود کرنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی ایران کے اہم بندرگاہی شہر بندر عباس میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ بعض رپورٹس میں قریبی علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاع دی گئی ہے تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر ان دھماکوں کی نوعیت، حملوں کے اہداف یا ممکنہ جانی و مالی نقصان سے متعلق کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔
تازہ امریکی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہا ہے جبکہ تہران اس الزام کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔
امریکی حملوں کے نئے مرحلے سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل کی رسد اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔