ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرکے اور ایرانی دفاعی صلاحیت کا غلط اندازہ لگا کر بڑی غلطی کی ، ایران کبھی بھی امریکی دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکا اور نہ ہی مستقبل میں دباؤ قبول کرے گا۔
ترک میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل دونوں نے ایران کی طاقت اور عوام کے عزم کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا خیال تھا کہ محدود مدت کے حملوں سے ایران کو شدید نقصان پہنچا کر اپنے مقاصد حاصل کر لیے جائیں گے تاہم حالات ان کی توقعات کے برعکس رہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی حملے ایران کے اندر سے معلومات کے افشا ہونے کے باعث ممکن ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ایک ایسا سکیورٹی خلا موجود تھا جس سے دشمن نے فائدہ اٹھایا تاہم ایرانی ادارے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ صیہونی ایجنٹوں کو ایران کی اعلیٰ قیادت کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات حاصل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا جاتا تو آبنائے ہرمز بند کرنے کا منصوبہ پہلے ہی تیار کیا جا چکا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ ابتدائی جنگ بندی کی منظوری ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے دی تھی۔ ایران نے سفارتکاری کو ایک موقع دینے اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کی۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کیے جائیں یا نہیں اس حوالے سے طویل مشاورت کی گئی ہے تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ ایران کے قومی مفادات اور زمینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران ہمیشہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کا دفاع کرے گا اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی کے تحت اپنے اصولی مؤقف سے دستبردار نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ عباس عراقچی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے جبکہ سفارتی سطح پر بھی مختلف ممالک کی جانب سے تنازع کے پُرامن حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔