آج رات پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے کیونکہ وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نئے روزانہ پرائسنگ میکانزم کے تحت 20 جولائی کو قیمتوں کا ازسرِ نو تعین کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ تین روز (18 سے 20 جولائی) کے لیے مقرر کی گئی عبوری قیمتوں کی مدت آج رات ختم ہو رہی ہے جس کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان متوقع ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں اور خام تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک پر پڑنے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق گزشتہ کاروباری روز 17 جولائی کو برینٹ خام تیل کی قیمت 86.09 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ آج 20 جولائی کو مارکیٹ کھلنے کے بعد اس میں 3.05 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت بڑھ کر 90.79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس طرح صرف تین روز کے دوران خام تیل کی قیمت میں 4.70 ڈالر فی بیرل کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع اور اوگرا کے قیمتوں کے تعین کے فارمولے کے مطابق عالمی مارکیٹ میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ تخمینوں کے مطابق پیٹرول کی موجودہ قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 324 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہو سکتی ہے یعنی 8 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی موجودہ قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 395 روپے 10 پیسے فی لیٹر تک جا سکتی ہے جس کا مطلب 40 روپے 75 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق اوگرا میں اتنا اضافہ کرنے کیلئے پیپر ورک تیار کر لیا گیا ہے تاہم اس میں کمی اس صورت ممکن ہے جب حکومت
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیزل کی قیمت میں مجوزہ اضافہ نافذ ہوتا ہے تو اس کے اثرات سب سے زیادہ ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے، مال برداری اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑیں گے، کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر مال بردار گاڑیاں اور زرعی مشینری ڈیزل پر چلتی ہیں۔ دوسری جانب پیٹرول مہنگا ہونے سے عام شہریوں کے سفری اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا اور مہنگائی کی مجموعی شرح پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اوگرا عالمی منڈی کی تازہ قیمتوں، درآمدی لاگت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور دیگر مالیاتی عوامل کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات حکومت کو بھجوائے گی، جس کے بعد وزارتِ خزانہ نئی قیمتوں کی منظوری دے گی۔ منظوری کی صورت میں نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے متوقع ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے حال ہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے روزانہ پرائسنگ میکانزم متعارف کرایا ہے، جس کے تحت عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے مطابق مقامی قیمتوں میں بھی نسبتاً تیزی سے ردوبدل کیا جا سکے گا۔