فخر درانی نے ,,را,, سے متعلق مزید شواہد جاری کر دیے، واٹس ایپ گفتگو اور کال ریکارڈنگ منظرعام پر

فخر درانی نے ,,را,, سے متعلق  مزید شواہد جاری کر دیے، واٹس ایپ گفتگو اور کال ریکارڈنگ منظرعام پر

صحافی فخر درانی نے سوشل میڈیا پر مزید دو ویڈیو کلپس جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ان کے بقول خود کو پبلک ریلیشنز (PR) فرم ظاہر کرنے والے افراد کے اصل کردار پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

فخر درانی کے مطابق بعض افراد یہ سوال کر رہے تھے کہ آخر کیا ثبوت ہے کہ رابطہ کرنے والے افراد کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے تھااسی سوال کے جواب میں انہوں نے دو الگ الگ کلپس جاری کیے، جن میں ایک واٹس ایپ چیٹس جبکہ دوسرا واٹس ایپ کال کی ریکارڈنگ پر مشتمل ہے۔

فخر درانی کا دعویٰ ہے کہ پہلی ویڈیو میں 27 فروری سے قبل ہونے والی واٹس ایپ گفتگو موجود ہے، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف ایک مضمون شائع کرانے پر بات چیت کی جا رہی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پورے فروری کے دوران بارہا ایڈوانس ادائیگی کا مطالبہ کیا تاکہ مالی لین دین کا کوئی واضح ثبوت موجود رہے، تاہم دوسری جانب سے ادائیگی مسلسل مؤخر کی جاتی رہی۔

یہ بھی پڑھیں :بھاری معاوضہ اور بیرون ملک منتقلی کی پیشکش، پاکستانی صحافی کو ملک دشمن عناصر کیجانب سے خریدنے کی کوشش بے نقاب

صورتحال 27 فروری کو اس وقت بدلی جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کا واقعہ پیش آیا، فخر درانی کا دعویٰ ہے کہ اسی روز انہیں ایزی پیسہ کے ذریعے ایڈوانس رقم بھیجی گئی، جبکہ ساتھ ہی ان سے موجودہ سیکیورٹی صورتحال، سرحدی علاقوں کی ایسی ویڈیوز، تصاویر اور معلومات طلب کی گئیں جو میڈیا پر موجود نہیں تھیں۔

فخر درانی نے سوال اٹھایا کہ اگر رابطہ کرنے والے افراد محض ایک PR فرم تھے تو انہیں سرحدی صورتحال اور غیر شائع شدہ معلومات میں دلچسپی کیوں تھی؟

دوسرے کلپ کے حوالے سے فخر درانی کا کہنا ہے کہ یہ واٹس ایپ کال کی ریکارڈنگ ہے، جو تقریباً آٹھ ماہ تک جاری رہنے والے رابطوں کے بعد کی گئی، جب مطلوبہ خبر مکمل ہوگئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ متعلقہ افراد کا براہ راست مؤقف لیا جائے۔

فخر درانی کے مطابق انہوں نے کال کے دوران واضح طور پر کہا کہ انہیں یقین ہے کہ سامنے والے افراد کسی PR فرم سے نہیں بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں دوسری جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی، تاہم گفتگو آگے بڑھنے پر انہیں برطانیہ منتقل ہونے سمیت دیگر مراعات اور پیشکشیں بھی کی گئیں۔

فخر درانی کا کہنا ہے کہ یہ تمام ویڈیوز، واٹس ایپ گفتگو، مالی لین دین اور آڈیو ریکارڈنگ ان کے دعوؤں کی بنیاد ہیں، جنہیں انہوں نے عوام کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

editor

Related Articles