جنوبی کوریا نے بین الاقوامی ریموٹ ورکرز اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے مستقل ڈیجیٹل نومیڈ ویزا کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اہل غیرملکی ریموٹ کارکن بیرون ملک مقیم اپنے آجر یا کاروبار کے لیے کام کرتے ہوئے جنوبی کوریا میں رہائش اختیار کر سکیں گے۔
کیا ہے ‘ورک کیشن ویزا’؟
باضابطہ طور پر ‘ورک کیشن ویزا’ کے نام سے موسوم اس پروگرام کا آغاز پہلی جنوری 2024ء کو تجرباتی بنیادوں پر کیا گیا تھا۔ 2 سال سے زیادہ جانچ کے مرحلے کے بعد جنوبی کوریا نے 30 جون 2026 کو اس ویزا کو مستقل حیثیت دے دی۔
مستقل پروگرام کے تحت اہل ڈیجیٹل نومیڈز اب زیادہ سے زیادہ 3 سال تک جنوبی کوریا میں قیام کر سکیں گے۔ اس سے قبل یہ ویزا 2 سال کے لیے دیا جاتا تھا، جس میں ابتدائی طور پر ایک سالہ ویزا جاری کیا جاتا اور بعد میں مزید ایک سال کی توسیع دی جا سکتی تھی۔
اہلیت کے تقاضے کیا ہیں؟
یہ ویزا ایسے غیرملکی شہریوں کے لیے مخصوص ہے جو جنوبی کوریا سے باہر مقیم کمپنیوں کے لیے ریموٹ کام کرتے ہیں یا بیرون ملک اپنا کاروبار چلاتے ہیں۔ درخواست دہندگان کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے اور انہیں اپنے شعبے میں کم از کم ایک سال کا تجربہ بھی حاصل ہونا ضروری ہے۔
انہیں جنوبی کوریا کی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم آمدنی کی شرط بھی پوری کرنی ہوگی۔ اصل قواعد کے تحت درخواست گزار کی سالانہ آمدنی جنوبی کوریا کی فی کس مجموعی قومی آمدنی سے دگنا ہونا لازمی تھی۔
کم عمر درخواست گزاروں کے لیے نرمی
تاہم مستقل پروگرام میں بعض درخواست گزاروں کے لیے آمدنی کی شرط میں نرمی کر دی گئی ہے۔ کم عمر افراد اور وہ درخواست گزار جو بڑے شہری مراکز سے باہر یا آبادی میں کمی کا سامنا کرنے والے علاقوں میں رہائش اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ فی کس مجموعی قومی آمدنی کے برابر سالانہ آمدنی کے ساتھ بھی اہل قرار پا سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ انہیں دگنی آمدنی درکار ہو۔
یہ تبدیلی ویزا کو مزید قابلِ رسائی بنا سکتی ہے اور ساتھ ہی غیرملکی ریموٹ ورکرز کو ملک کے بڑے شہری مراکز سے باہر آباد ہونے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔
درکار دستاویزات
درخواست گزاروں کو اپنی ملازمت کی حیثیت اور آمدنی کا ثبوت پیش کرنا ہوگا، جس میں تنخواہ کے ریکارڈ اور ملازمت کی تصدیقی خط شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ صاف کریمنل ریکارڈ ظاہر کرنے والا سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانا لازمی ہے۔
نجی صحت بیمہ بھی ایک اہم شرط ہے، جس کے تحت پالیسی کم از کم 100 ملین کورین وون کی کوریج فراہم کرنے والی ہونی چاہیے۔ جو درخواست گزار اپنے اہلِ خانہ کو ساتھ لانا چاہتے ہیں انہیں تعلق ثابت کرنے والی دستاویزات، جیسے شادی یا پیدائش کے سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانا ہوں گے۔
اہلِ خانہ بھی ساتھ منتقل ہو سکیں گے
اس پروگرام کے تحت اہل ڈیجیٹل نومیڈز اپنے قریبی اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ قانونی شریکِ حیات اور 19 سال سے کم عمر غیرشادی شدہ بچے مرکزی ویزا ہولڈر کے ہمراہ اس پروگرام کے تحت جنوبی کوریا جا سکتے ہیں، جس سے ریموٹ کارکنوں کو اپنے قریبی اہلِ خانہ سے بچھڑے بغیر جنوبی کوریا منتقل ہونے کی سہولت ملے گی۔
درخواست کیسے دی جائے؟
درخواست گزاروں کو عمومی طور پر اپنے ملکِ سکونت میں موجود جنوبی کوریا کے سفارت خانے یا قونصل خانے میں دستاویزات جمع کروانا ہوں گی۔ سفارتی مشن درخواست کا جائزہ لے کر، شرائط پوری ہونے کی صورت میں ویزا جاری کرے گا۔ جنوبی کوریا پہنچنے کے بعد ڈیجیٹل نومیڈ ویزا ہولڈرز کو رہائشی کارڈ کے لیے درخواست دینا ہوگی۔
بعض صورتوں میں جو غیرملکی پہلے ہی جنوبی کوریا میں بی۔1 یا بی۔2 ویزا استثنیٰ کی حیثیت سے یا سی۔3 مختصر مدتی وزیٹر ویزا پر موجود ہیں، وہ اپنی حیثیت ‘ورک کیشن ویزا’ میں تبدیل کروا سکتے ہیں، تاہم عمومی طور پر مشورہ دیا جاتا ہے کہ جہاں ممکن ہو قونصلر درخواست کا عمل ہی اختیار کیا جائے۔
کیا کورین کمپنیوں کے لیے کام کیا جا سکتا ہے؟
‘ورک کیشن ویزا’ ہولڈرز کو جنوبی کوریا کی کسی کمپنی میں باقاعدہ ملازمت اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ویزا ہولڈرز کو اپنے بیرون ملک آجر یا کاروبار کے لیے ریموٹ کام جاری رکھنا ہوگا۔ انہیں جنوبی کوریا کے اندر مقامی منافع بخش سرگرمیوں کے ذریعے کمائی کرنے کی بھی اجازت نہیں، جب تک کہ وہ متعلقہ امیگریشن حیثیت حاصل نہ کر لیں۔
عالمی رجحان کا حصہ
ڈیجیٹل نومیڈ ویزا غیرملکی ریموٹ کارکنوں کو اپنی بیرون ملک ملازمتیں برقرار رکھتے ہوئے جنوبی کوریا میں رہائش اختیار کرنے کا ایک مخصوص امیگریشن راستہ فراہم کرتا ہے۔
کورونا وبا کے بعد دنیا بھر میں ریموٹ ورک کے فروغ کے ساتھ ہی متعدد ممالک نے اسی طرز کے ویزا پروگرام متعارف کرائے ہیں تاکہ اعلیٰ آمدنی والے غیرملکی پیشہ ور افراد کو اپنی طرف راغب کیا جا سکے۔
پروگرام کے اب مستقل ہونے اور قیام کی مدت 3 سال تک بڑھائے جانے کے بعد جنوبی کوریا خود کو بین الاقوامی ریموٹ ورکرز کے لیے ایک طویل مدتی منزل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے لیے یہ اقدام کیوں اہم؟
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ جنوبی کوریا کی آبادیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کا بھی حصہ دکھائی دیتا ہے۔ ملک کے بڑے شہری مراکز سے باہر یا آبادی میں کمی والے علاقوں میں رہائش اختیار کرنے والوں کے لیے آمدنی کی شرط میں نرمی واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت غیرملکی پیشہ ور افراد کے ذریعے دیہی و نیم شہری علاقوں کی معیشت کو متحرک کرنا چاہتی ہے۔
اس کے علاوہ ویزا کو مستقل بنیادوں پر لانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دو سالہ آزمائشی مرحلے کے دوران یہ پروگرام کامیاب رہا اور حکومت کو اس پر اعتماد حاصل ہوا۔ تاہم اس ویزا کی سب سے نمایاں شرط، یعنی مقامی کمپنیوں کے لیے کام کرنے پر پابندی، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ پروگرام مقامی روزگار کی منڈی پر اثرانداز ہونے کے بجائے صرف بیرونی آمدنی کو ملک میں لانے کا ذریعہ بنے۔ عالمی سطح پر ڈیجیٹل نومیڈ ویزوں کے بڑھتے رجحان کے تناظر میں جنوبی کوریا کا یہ اقدام اسے دیگر مقبول منزلوں کے مقابلے میں مسابقتی پوزیشن دلا سکتا ہے۔