شہری نے مقدمے سے بچنے کا انوکھا طریقہ ڈھونڈ لیا ، جان کی حیران رہ جائینگے

شہری نے مقدمے سے بچنے کا انوکھا طریقہ ڈھونڈ لیا ، جان کی حیران رہ جائینگے

چین کے صوبہ ہونان میں ایک شخص نے شراب پی کر گاڑی چلانے کے مقدمے سے بچنے کے لیے اپنی ہی موت اور تدفین کا ڈرامہ رچایا۔

ابتدا میں اہلِ خانہ سمیت کئی افراد اسے حقیقت سمجھ بیٹھے تاہم چند ماہ بعد پولیس نے جدید تفتیشی ذرائع کی مدد سے اس کی پوری منصوبہ بندی بے نقاب کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق ملزم، جس کی شناخت صرف ’سی‘ کے نام سے ظاہر کی گئی ہے گزشتہ سال جنوری میں نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے گرفتار ہوا تھا۔ یہ اس کا پہلا جرم نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی وہ دو مرتبہ بغیر ڈرائیونگ لائسنس اور شراب کے نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے پکڑا جا چکا تھ جس کے باعث اس مرتبہ اسے قید کی سزا کا سامنا تھا۔

ضمانت کے بعد جعلی موت کا منصوبہ

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ضمانت پر رہائی کے بعد ملزم نے گرفتاری اور ممکنہ قید سے بچنے کے لیے ایک غیر معمولی منصوبہ تیار کیا۔ اس منصوبے میں اس کی والدہ اور دادی نے بھی اس کا ساتھ دیا۔

 یہ بھی پڑھیں :صحرا کا حیرت انگیز جاندار،جر بوہ برسوں پانی پیے بغیر کیسے زندہ رہتا ہے؟

منصوبے کے تحت پہلے ایک تابوت خریدا گیا پھر گھر کے اندر خالی دوائیوں کی بوتلیں بکھیر دی گئیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ ملزم کی موت منشیات کی زیادہ مقدار استعمال کرنے کے باعث ہوئی ہے۔ اس کے بعد گھر والوں نے رشتہ داروں اور جاننے والوں کو اس کی اچانک موت کی اطلاع دینا شروع کر دی۔

مردہ دکھائی دینے کے لیے خصوصی تیاری

پولیس کے مطابق ملزم نے اپنی جعلی موت کو قابلِ یقین بنانے کے لیے غیر معمولی تیاری بھی کی۔ اس نے سانس روکنے کی مشق کی تاکہ اگر کوئی اس کا معائنہ کرے تو وہ کم سے کم حرکت کرے۔ اس کے علاوہ جسم کا درجہ حرارت کم رکھنے کے لیے کولنگ آلات استعمال کیے گئے تاکہ اس کا جسم مردہ شخص کی طرح ٹھنڈا محسوس ہو۔

جنازے کے موقع پر اہلِ خانہ نے اس کا چہرہ مکمل طور پر کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا اور لوگوں کو بتایا گیا کہ منشیات کے زیادہ استعمال کے باعث چہرہ بری طرح متاثر ہو گیا ہے اسی لیے اسے نہیں دکھایا جا سکتا۔

جعلی تدفین کے بعد خفیہ فرار

پولیس کا کہنا ہے کہ اسی روز ملزم کی تدفین کا اعلان بھی کر دیا گیا تاہم حقیقت میں وہ خفیہ طور پر صوبہ یوننان فرار ہو گیا جہاں وہ اپنی شناخت چھپا کر رہائش اختیار کیے ہوئے تھا۔

ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوا کہ منصوبہ کامیاب ہو گیا ہے لیکن چند اہم حقائق نے تفتیشی حکام کو مشکوک بنا دیا اور انہوں نے معاملے کی مزید چھان بین شروع کر دی۔

پولیس کو کن باتوں پر شبہ ہوا؟

تحقیقات کے دوران پولیس نے کئی ایسے پہلوؤں کی نشاندہی کی جو معمول کے مطابق نہیں تھے۔ حکام کے مطابق مبینہ موت سے قبل تابوت کی خریداری کسی بھی مرحلے پر ایمبولینس یا پولیس کو اطلاع نہ دینا موت کا سرکاری سرٹیفکیٹ موجود نہ ہونا اور آخری رسومات کا کوئی باضابطہ ریکارڈ نہ ملنا ایسے عوامل تھے جنہوں نے اس کہانی پر سوالات کھڑے کر دیے۔

 یہ بھی پڑھیں :چمکدار سینگوں والے حیرت انگیز ہرن ، حقیقت میں کیا ہیں؟

بعد ازاں پولیس نے نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج، بینک لین دین اور دیگر ریکارڈ کا جائزہ لیا جس سے واضح ہو گیا کہ ملزم نہ صرف زندہ ہے بلکہ مختلف مقامات پر اپنی مالی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

چند ماہ بعد گرفتاری عدالت کا فیصلہ

پولیس نے شواہد مکمل ہونے کے بعد رواں سال اپریل میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے دوران جعلی موت اور فرار کا پورا منصوبہ سامنے آ گیا جس کے بعد مقدمہ عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو پانچ ماہ قید اور 20 ہزار یوآن جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزم نے نہ صرف قانون سے بچنے کی کوشش کی بلکہ سرکاری اداروں کو گمراہ کرنے اور عدالتی کارروائی سے فرار حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔

والدہ اور دادی بھی قانونی کارروائی کی زد میں

پولیس کے مطابق ملزم کی والدہ اور دادی کے خلاف بھی الگ فوجداری تحقیقات جاری ہیں کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر جعلی موت کے منصوبے میں اس کی مدد کی حکام کو گمراہ کیا اور ایک مطلوب شخص کو چھپانے میں کردار ادا کیا۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ قانون سے فرار کی ایسی کوششوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور اس نوعیت کے مقدمات میں معاونت کرنے والے افراد کو بھی قانون کے مطابق جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ جدید نگرانی کے نظام، بینک ریکارڈ اور ڈیجیٹل شواہد کی بدولت اس نوعیت کی جعل سازی زیادہ دیر تک چھپانا ممکن نہیں رہا۔

editor

Related Articles