آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران آمنے سامنے، سینٹکام نے بڑا دعویٰ کر دیا

آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران آمنے سامنے، سینٹکام نے بڑا دعویٰ کر دیا

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بدستور کھلی ہوئی ہے اور ایران کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ کی بندش سے متعلق کیے جانے والے دعوے درست نہیں ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال معمول پر آنے تک جہازوں کی آمد و رفت پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔

سینٹکام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی حکومت نے ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز بند ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم امریکی فوج کے مطابق یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت بھی تجارتی بحری جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے اور اس اہم عالمی آبی گزرگاہ پر ایران کا مکمل کنٹرول نہیں ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :نئی پلاننگ، نئی تیاری،امریکا جنگ کے اگلے مرحلے کیلئے متحرک ، سینٹکام کا بڑا انکشاف

امریکی فوج کے مطابق گزشتہ چار ماہ کے دوران دنیا کی اس اہم بحری راہداری سے ہزاروں تجارتی جہاز بحفاظت گزر چکے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔

سینٹکام نے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی تجارت کے لیے اس راستے کی دستیابی برقرار ہے اور بین الاقوامی جہاز رانی متاثر نہیں ہوئی۔

دوسری جانب ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کا گزرنا ممکن نہیں کیونکہ خطے میں امریکی فوج کی سرگرمیوں کے باعث سکیورٹی صورتحال غیر معمولی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے عراق میں فوجی طیارہ گرنے کے واقعے کی باضابطہ تصدیق کر دی

ایرانی اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جب خطے میں امن اور استحکام بحال ہوگا تو جہازوں کی آمد و رفت سے متعلق درخواستوں پر مرحلہ وار غور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے کے بعد ہی تجارتی جہازوں کو معمول کے مطابق گزرنے کی اجازت دی جا سکے گی۔

امریکا اور ایران کے متضاد بیانات نے ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور اس سے متعلق کسی بھی قسم کی کشیدگی یا غیر یقینی صورتحال عالمی تجارتی سرگرمیوں اور تیل کی منڈی پر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اس علاقے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles