لنڈی کوتل اور طورخم کے مقام پر پاک افغان بارڈر پر انسانی ہمدردی کی ایک خوبصورت مثال سامنے آئی ہے، جہاں جلال آباد سے تعلق رکھنے والے 10 دن کے شدید علیل بچے کو فوری طبی امداد کے لیے والدین سمیت پاکستان میں داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ نومولود کو بہتر علاج کے لیے پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا ہے۔
طورخم بارڈر پر انسانی ہمدردی کا مظاہرہ
طورخم سرحدی گزرگاہ پر اس وقت جذبہ خیر سگالی دیکھنے میں آیا جب افغان شہر جلال آباد کے رہائشی ایک بدقسمت خاندان نے اپنے نو مولود بچے کی زندگی بچانے کے لیے حکام سے مدد کی اپیل کی۔
بچے کی نازک حالت اور عمر محض 10 دن ہونے کے پیش نظر سیکیورٹی اور سرحدی انتظامیہ نے روایتی طویل کاغذی کارروائی کو پس پشت ڈالتے ہوئے فوری انسانی بنیادوں پر بڑا دل دکھایا۔
خاندان کو فوری طور پر طورخم کے راستے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تاکہ قیمتی جان کو بچایا جا سکے۔ سرحد پر موجود حکام کا یہ قدم دونوں ممالک کے عام عوام کے مابین انسانی رشتوں اور دردِ دل کی ایک بہترین عکاسی کرتا ہے۔
پشاور منتقلی اور طبی امداد
پاکستان میں داخل ہوتے ہی بچے اور اس کے والدین کو بغیر کسی تاخیر کے پشاور کے معروف اسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پہنچایا گیا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق نوزائیدہ کو فوری طور پر نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) میں داخل کر لیا گیا ہے جہاں ماہر ڈاکٹرز کی نگرانی میں اس کا علاج جاری ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچے کو تمام ضروری طبی سہولیات بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ اس کی زندگی کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکے اور اسے صحت کی بہترین سہولیات میسر آ سکیں۔
پاک افغان بارڈر اور طبی امداد
طورخم بارڈر طویل عرصے سے پاک افغان دوطرفہ تجارت اور مسافروں کی آمدورفت کا اہم ترین زمینی راستہ رہا ہے۔ افغانستان میں صحت کے شعبے کی زبوں حال اور جدید طبی سہولیات کے فقدان کے باعث ہر سال ہزاروں افغان شہری علاج کی غرض سے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔
پشاور کے اسپتال بالخصوص حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور لیڈی ریڈنگ اسپتال افغان مریضوں کے لیے ہمیشہ سے امید کی کرن رہے ہیں۔
سرحدی کشیدگی اور سخت حفاظتی پروٹوکولز کے باوجود، جب بھی کوئی انسانی بحران یا ایمرجنسی سامنے آتی ہے، پاکستانی حکام کی طرف سے اس طرح کے انسانی ہمدردی کے فیصلے دونوںممالک کے عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انسانیت سیاست سے بالاتر
سرحدی امور اور سیاسی تناؤ اپنی جگہ لیکن جب بات ایک معصوم بچے کی زندگی اور موت کی ہو، تو انسانی جذبے تمام سرحدوں کو عبور کر جاتے ہیں۔ طورخم بارڈر پر پیش آنے والا یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دلوں کے راستے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔
اس اقدام نے نہ صرف ایک نو مولود کی زندگی بچانے کی امید روشن کی ہے بلکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے عام شہریوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ بھی پیدا کیا ہے۔ ایسے اقدامات سے خطے میں مثبت پیغامات جاتے ہیں اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانیت تمام سیاسی مصلحتوں سے بلند تر ہے۔