بھارتی کرکٹ ٹیم کے اسٹار فاسٹ بولر جسپریت بمراہ بائیں گھٹنے کی انجری کے باعث سری لنکا کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے باہر ہو گئے ہیں، جس کے بعد ان کی جگہ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ نوجوان فاسٹ بولر عاقب نبی کو پہلی مرتبہ سینیئر بھارتی ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔
عاقب نبی نے گزشتہ دو رانجی ٹرافی سیزنز میں 104 وکٹیں حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔
بمراہ کی غیر موجودگی اور عاقب نبی کا موقع
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ جسپریت بمراہ بائیں گھٹنے کی انجری کے باعث سری لنکا کے خلاف ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے باہر ہو گئے ہیں۔
ان کی غیر موجودگی میں ٹیم مینجمنٹ نے جموں و کشمیر کے نوجوان فاسٹ بولر عاقب نبی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
عاقب نبی کا سینیئر ٹیم میں انتخاب ان کی شاندار ڈومیسٹک کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے گزشتہ دو رانجی ٹرافی سیزنز میں مجموعی طور پر 104 وکٹیں حاصل کیں، جن میں 26-2025کے سیزن میں 60 وکٹیں شامل ہیں۔ ان کی اس شاندار کارکردگی نے جموں کشمیر کو پہلی بار رانجی ٹرافی کا ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
عاقب نبی کا پس منظر اور سفری تجربہ
عاقب نبی حال ہی میں سری لنکا کے دورے پر بھارت کی اے ٹیم کا بھی حصہ رہے ہیں، جہاں انہوں نے 2 فرسٹ کلاس میچوں میں 6 وکٹیں حاصل کیں۔ اس تجربے نے انہیں سری لنکن حالات سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کیا ہے، جو اب سینیئر ٹیم کے ساتھ ان کے ممکنہ ڈیبیو میں ان کے کام آ سکتا ہے۔
عاقب نبی کی کہانی ایک متاثر کن جدوجہد کی داستان ہے۔ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے اس فاسٹ بولر نے ڈومیسٹک سرکٹ میں اپنی محنت اور مستقل مزاجی کے بل بوتے پر قومی ٹیم تک رسائی حاصل کی ہے۔
سری لنکا سیریز کی تفصیلات
بھارت اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا پہلا میچ 15 اگست 2026 سے گال میں کھیلا جائے گا، جبکہ دوسرا میچ 23 اگست سے کولمبو میں شیڈول ہے۔
عاقب نبی کے لیے یہ سیریز بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے کیریئر کا آغاز کرنے کا سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہے۔
کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، بمراہ جیسے بڑے کھلاڑی کی غیر موجودگی ہر ٹیم کے لیے ایک چیلنج ہوتی ہے، لیکن یہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کو قومی سطح پر ثابت کرنے کا بہترین موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
عاقب نبی کی رانجی ٹرافی میں کارکردگی اور اے ٹیم کے ساتھ سری لنکا کا تجربہ انہیں سینیئر ٹیم میں شامل ہونے کے لیے تیار کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی سوئنگ بولنگ اور سیم کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت سری لنکن حالات میں ان کی بڑی خوبی ہو سکتی ہے۔
اس انتخاب کو جموں کشمیر کرکٹ کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ پہلی بار ہے جب اس خطے سے کوئی فاسٹ بولر براہ راست سینئر بھارتی ٹیم کا حصہ بنا ہے۔ یہ کامیابی اس خطے کے دیگر نوجوان کرکٹرز کے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہے۔