وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لاہور ہائیکورٹ نہ جانے کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور رہنما نعیم پنجوتھا کے درمیان گفتگو سامنے آگئی، جس میں دونوں رہنماؤں کے مؤقف میں اختلاف نمایاں ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس سوال کے بعد زیر بحث آیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی لاہور میں موجود ہونے کے باوجود لاہور ہائیکورٹ کیوں نہیں گئے۔ اسی حوالے سے پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی ایک گفتگو سامنے آئی ہے جس میں وہ نعیم پنجوتھا سے اس معاملے پر سخت انداز میں سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے نعیم پنجوتھا سے کہا کہ کیا ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو اس طرح بے عزت کرنا مقصود تھا؟ ان کے مطابق اگر لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ کی شرکت کے لیے کوئی باقاعدہ پروگرام یا تقریب ہی موجود نہیں تھی تو انہیں وہاں بلانے کا کیا مقصد تھا۔
گفتگو میں سلمان اکرم راجہ نے مبینہ طور پر کہا کہ انٹرنیشنل لائرز فورم (آئی ایل ایف) کا لاہور ہائیکورٹ میں کوئی باقاعدہ فنکشن نہیں تھا اور نہ ہی لوگوں کو اس حوالے سے علم تھا۔
سلمان اکرم راجہ نے اس مؤقف پر بھی سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لاہور ہائیکورٹ نہ پہنچنے سے وہاں موجود افراد منتشر ہوگئے تھے۔
ان کے مطابق انہوں نے خود اس بارے میں معلومات حاصل کیں اور انہیں بتایا گیا کہ ہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے صرف چار افراد موجود تھے۔ سلمان اکرم راجہ نے سوال کیا کہ اگر ہائیکورٹ میں خاطر خواہ لوگ موجود ہی نہیں تھے تو وزیراعلیٰ کو وہاں کیوں بلایا جاتا؟
یہ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی لاہور آمد اور ان کی سیاسی و جماعتی سرگرمیاں بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ رواں ہفتے لاہور آمد کے موقع پر بعض پی ٹی آئی رہنماؤں کی نظر بندی کے احکامات بھی جاری کیے گئے تھے، جن کے بارے میں ضلعی انتظامیہ نے امن و امان سے متعلق خدشات کا مؤقف اختیار کیا تھا۔
سلمان اکرم راجہ اور نعیم پنجوتھا کے درمیان سامنے آنے والی گفتگو سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی لاہور ہائیکورٹ آمد کے معاملے پر پارٹی کے بعض رہنماؤں کے درمیان رائے کا اختلاف موجود تھا۔
تاہم اس ایک گفتگو کی بنیاد پر پی ٹی آئی میں وسیع پیمانے پر داخلی اختلافات کی نوعیت یا شدت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ دونوں رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر مزید وضاحت یا مکمل پس منظر سامنے آنے کے بعد صورتحال زیادہ واضح ہوسکتی ہے۔
سلمان اکرم راجہ اس سے قبل بھی پارٹی کے قانونی اور عدالتی معاملات میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ حالیہ عدالتی معاملات میں وہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے عدالتی کارروائیوں اور عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملات پر بھی عدالتوں سے رجوع کرچکے ہیں۔
یوں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لاہور ہائیکورٹ نہ جانے کے معاملے پر سامنے آنے والی یہ گفتگو پی ٹی آئی کے اندرونی رابطہ کاری، سیاسی سرگرمیوں اور مختلف رہنماؤں کے درمیان حکمت عملی کے اختلافات سے متعلق نئی بحث کا باعث بن گئی ہے۔