پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں سے متعلق بڑی خبر آ گئی

پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں سے متعلق بڑی خبر آ گئی

پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے یومِ آزادی کی سرکاری تعطیل اور اس کے بعد ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ عارضی طور پر رک گیا ہے تاہم اب نئی قیمتوں کے تعین کا مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔

13 اگست کو دستیاب آخری روزانہ ریویو میں پیٹرول کی قیمت 325.43 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 383.95 روپے فی لیٹر مقرر ہوئی تھی 14 اگست کو سرکاری تعطیل کے باعث نئی قیمتیں جاری نہیں ہوئیں اور 15، 16 اور 17 اگست کے لیے بھی موجودہ نرخ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ نیا جائزہ کب ہوگا اور 18 اگست سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھیں گی یا کم ہوں گی؟

موجودہ شیڈول کے مطابق 17 اگست پیر کو اوگرا ورکنگ ڈے پر عالمی مارکیٹ کے تازہ اعداد و شمار سات ورکنگ دنوں کی اوسط، درآمدی لاگت اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر سمیت متعلقہ عوامل کا حساب کرے گا۔ اس حساب کی بنیاد پر 18 اگست سے نئی قیمتیں لاگو ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کے بل کیوں بڑھنے لگے؟ اصل وجہ سامنے آگئی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی آنے کے بعد پاکستان میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل مزید مہنگا ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

 پیر 17 اگست کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 89.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل WTI کی قیمت 82.83 ڈالر فی بیرل تک ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ ہفتے بھی برینٹ کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے کیونکہ ملک اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ عالمی قیمت کے ساتھ ڈالر کا ایکسچینج ریٹ، درآمدی فریٹ، پریمیم، حکومتی لیویز اور دیگر اخراجات بھی مقامی قیمت کے تعین میں شامل ہوتے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت پیٹرول کی قیمت تقریباً 325.92 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 382.25 روپے فی لیٹر ہے۔ حالیہ نظرثانی میں پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا۔

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ جائزے کا نظام متعارف ہونے کے بعد عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں پہلے کے مقابلے میں نسبتاً تیزی سے مقامی قیمتوں پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔ تاہم ایک دن میں عالمی خام تیل کی قیمت بڑھنے کا پورا اثر لازماً اسی دن پاکستان میں منتقل نہیں ہوتا، کیونکہ قیمت کے حساب میں عالمی مصنوعات کی قیمتوں اور متعلقہ اوسط کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

موجودہ عالمی صورتحال اور برینٹ کی تقریباً 89 ڈالر فی بیرل قیمت کو دیکھتے ہوئے ابتدائی طور پر پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 1 سے 3 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل میں 2 سے 5 روپے فی لیٹر اضافے کا دباؤ بنتا ہے۔ تاہم یہ صرف مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کی بنیاد پر تخمینہ ہے حتمی قیمت کا انحصار متعلقہ درآمدی قیمت، ڈالر ریٹ اور حکومت کے فیصلے پر ہوگا۔

اگر عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر مستحکم رہتی ہے اور آبنائے ہرمز میں سپلائی کا مسئلہ برقرار رہتا ہے تو آنے والے دنوں میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مزید اضافے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں غیر معمولی کمی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ہفتے کو صرف پانچ کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ اتوار کو کوئی جہاز نہیں گزرا، جبکہ اس سے ایک ہفتہ قبل اسی عرصے میں 31 جہاز گزرے تھے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور ایل این جی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles