بجلی کے بل کیوں بڑھنے لگے؟ اصل وجہ سامنے آگئی

بجلی کے بل کیوں بڑھنے لگے؟ اصل وجہ سامنے آگئی

عوام پہلے ہی بجلی کے بھاری بلوں سے پریشان ہیں ایسے میں بجلی کے شعبے میں ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آگیا ہے۔ ملک میں سولرائزیشن تیزی سے بڑھنے کے باعث گرڈ سے بجلی کی کھپت اور فروخت میں کمی آرہی ہے، لیکن دوسری جانب پاور پلانٹس کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے تحت حکومت کو ان کی کپیسٹی کی ادائیگیاں کرنا پڑ رہی ہیں، چاہے ان پلانٹس سے پوری بجلی حاصل کی جائے یا نہیں۔

تازہ صورتحال کے مطابق بجلی کی فروخت میں کمی کے باوجود پاور سیکٹر کے کئی مقررہ اخراجات برقرار ہیں۔ تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے صارفین پر 33 ارب 78 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ منتقل کرنے کی درخواست سامنے آئی ہے جس کا اوسط اثر تقریباً 1.34 روپے فی یونٹ بنتا ہے۔

مسئلے کی بنیادی وجہ بجلی کے موجودہ معاہدوں کا وہ نظام ہے جس کے تحت بعض پاور پلانٹس کو کپیسٹی کی مد میں ادائیگی کرنا ضروری ہوتی ہے۔ یعنی بجلی کی طلب کم ہونے یا کسی پلانٹ سے کم بجلی پیدا ہونے کی صورت میں بھی معاہدے کے تحت بعض مقررہ ادائیگیاں جاری رہتی ہیں۔

دوسری طرف ملک میں سولر بجلی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں بھی بڑی تعداد میں لوگ سولر پر منتقل ہو رہے ہیں۔ اس تبدیلی کے باعث گرڈ سے خریدی جانے والی بجلی کے یونٹس کم ہو رہے ہیں لیکن پاور سیکٹر کے تمام مقررہ اخراجات اسی تناسب سے کم نہیں ہو رہے تازہ درخواست میں بجلی کی کم فروخت کے لیے سولرائزیشن زرعی شعبے کی کم طلب اور دیگر عوامل کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈ سے متعلق بڑی خبر، نیا نوٹیفکیشن جاری

یہ صورتحال ایک ایسے چکر کو جنم دے رہی ہے جس سے عام صارف بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ گرڈ سے بجلی کی فروخت کم ہوتی ہے تو موجودہ مقررہ اخراجات کم یونٹس پر تقسیم ہوتے ہیں، جس سے فی یونٹ لاگت بڑھنے کا دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بجلی مہنگی ہوتی ہے صارفین مزید سولر کی طرف جاتے ہیں اور گرڈ کی طلب مزید کم ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔

اسی دوران کپیسٹی پیمنٹس کا بڑھتا ہوا بوجھ پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کے مسئلے کو بھی پیچیدہ بنا رہا ہے۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق پاور سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ 2026 کے آغاز میں تقریباً 1.84 ٹریلین روپے کی سطح پر موجود تھا، جبکہ فروری 2026 تک یہ تقریباً 1.837 ٹریلین روپے رپورٹ کیا گیا۔

یہ مسئلہ نیا نہیں 2024 میں پاکستان کے کپیسٹی پیمنٹس کا سالانہ حجم تقریباً 2.1 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا تھا جس کے بعد حکومت نے متعدد آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی اور بعض معاہدوں کو ختم یا تبدیل کرنے کی کوششیں بھی کیں۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف عام صارف مہنگی گرڈ بجلی سے بچنے کے لیے سولر لگا رہا ہے جبکہ دوسری طرف بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کے ساتھ موجود معاہدوں کی وجہ سے حکومت اور بجلی کے نظام پر مقررہ ادائیگیوں کا بوجھ فوری طور پر ختم نہیں ہو رہا۔

اس صورتحال کا براہِ راست اثر ان صارفین پر پڑ رہا  ہے جو ابھی بھی مکمل طور پر گرڈ کی بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر بجلی کی مجموعی فروخت مزید کم ہوئی اور مقررہ اخراجات برقرار رہے تو فی یونٹ لاگت میں اضافے کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ستمبر کے بجلی بلوں پر کتنا بوجھ پڑے گا؟ آج بڑا فیصلہ

یعنی سولر لگانے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، گرڈ سے بجلی کی کھپت کم ہورہی ہے، لیکن پاور پلانٹس کو معاہدوں کے تحت کپیسٹی کی ادائیگیاں جاری ہیں۔ یہی تضاد بجلی کے شعبے کے مالی بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اور بجلی کے بل زیادہ آرہے ہیں

اب اصل سوال یہ ہے کہ مستقبل میں جب گرڈ سے بجلی لینے والے صارفین کی تعداد مزید کم ہوگی تو موجودہ پاور پلانٹس کے کپیسٹی چارجز کا بوجھ کس پر پڑے گا؟ اگر معاہدوں اور بجلی کے پورے مالیاتی نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مسئلہ آنے والے دنوں میں بجلی کے بلوں کے ساتھ ساتھ سرکلر ڈیٹ پر بھی مزید دباؤ ڈال سکتا ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles