کیا ایران اور امریکہ کے درمیان نیا معاہدہ طے پانے والا ہے؟ امریکی سینیٹر کا بڑا دعویٰ

کیا ایران اور امریکہ کے درمیان نیا معاہدہ طے پانے والا ہے؟ امریکی سینیٹر کا بڑا  دعویٰ

امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے ایران کے ساتھ مزید عسکری تصادم کی مخالفت کرتے ہوئے سفارتی معاہدے کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے اہم دورے کے بعد سینیٹر کرس مرفی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ جنگ کے بجائے سفارت کاری پر توجہ دینی چاہیے۔

قطر میں اہم ملاقات

کرس مرفی نے قطر میں امریکی اور ایرانی سفارت کاری کے کوآرڈینیٹر علی الثوادی کے ساتھ ہونے والی طویل گفتگو کا حوالہ دیا۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کے ساتھ جنگ طویل ، امریکی سینیٹر چک شومر نے ٹرمپ کو آئینہ دکھا دیا

امریکی سینیٹر کے مطابق موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود ایران کے ساتھ ایک نیا اور جامع سفارتی معاہدہ ممکن ہے۔ انہوں نے سفارتی رابطوں کو تنازع کم کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

مرفی کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ تاہم مذاکرات کے ذریعے ان اختلافات کو حل کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

عسکری کارروائی کی مخالفت

ڈیموکریٹ سینیٹر نے واضح کیا کہ امریکا کو دوبارہ کسی فوجی حملے یا عسکری کارروائی کی طرف نہیں جانا چاہیے۔

  انہوں نے کہا کہ سفارتی معاہدے کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ کرس مرفی نے مؤقف اختیار کیا کہ طاقت کا استعمال مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

ایران امریکہ  معاہدہ  کس نے سبوتاژ  کیا ؟ امریکی اخبار کا بڑا دعویٰ

انہوں نے ایران کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے لیے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کو اہم قرار دیا۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

ماضی سے سبق

کرس مرفی نے خطے میں جاری کشیدگی اور ماضی کی ناکام امن کوششوں پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق دوبارہ دشمنی بڑھانے کے بجائے باہمی بات چیت کا راستہ اختیار کرنا زیادہ قابل عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کے ذریعے امن کی کوشش موجودہ حالات میں اہم ضرورت ہے۔

editor

Related Articles