مہنگائی کا نیا طوفان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

مہنگائی کا نیا طوفان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

سعودی عرب میں تیل کی اہم تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

حملوں نے عالمی سرمایہ کاروں اور تجارتی حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سعودی عرب کی تیل پیداوار اور ترسیل متاثر ہونے سے عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ اس لیے وہاں توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے خدشات عالمی منڈی میں فوری طور پر اثرانداز ہوئے ہیں۔

تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کے فیصلے کے بعد تیل مارکیٹ سے اچھی خبر آگئی ، تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

امریکی خام تیل کی قیمت بھی نمایاں اضافے کے بعد 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی قیمت 111 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ خطے کی سکیورٹی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والی بے یقینی کو ظاہر کرتا ہے۔ سرمایہ کار ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کو نظرانداز نہیں کررہے۔

سپلائی پر خدشات

سعودی عرب کی تیل تنصیبات عالمی توانائی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے مارکیٹ میں فوری طور پر سپلائی سے متعلق خدشات پیدا ہوئے۔

اگر پیداوار یا ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی دستیابی کم ہوسکتی ہے۔ اس صورتحال میں قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا امکان ہے۔

معاشی اور تجارتی حلقے خطے میں جاری کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ایک اہم تشویش بن گیا ہے۔

  یہ بھی پڑھیں :ایران نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ مسترد کر دیا، تیل کی قیمتوں سے متعلق بڑا دعوی

 عالمی معیشت پر اثر

معاشی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی منڈی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کے دباؤ کو بڑھا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف ممالک میں صارفین اور کاروباری اداروں کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

عالمی مارکیٹ میں موجودہ صورتحال نے توانائی کی فراہمی کے تحفظ کو ایک بار پھر اہم موضوع بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ خطے کی صورتحال سے جڑا رہے گا۔

editor

Related Articles