دشمن نے کوئی حماقت کی تو جواب پہلے سے زیادہ سخت ہو گا،ایران کا انتباہ

دشمن نے کوئی حماقت کی تو جواب پہلے سے زیادہ سخت ہو گا،ایران کا انتباہ

ایران نے امریکا اور دیگر مخالف قوتوں کو خبردار کیا ہے کہ دوبارہ فوجی تصادم کی صورت میں تہران کا ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔

ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ تنازع کا حل طاقت یا نئی پابندیوں کے ذریعے ممکن نہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے غیر ملکی سفیروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ان کے مطابق تنازع کے خاتمے کا راستہ مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ اگر دشمن نے دوبارہ فوجی تصادم کا راستہ اختیار کیا تو ایران پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔

مذاکرات پر زور

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ نہ فوجی کارروائی مسئلے کا مستقل حل ہے اور نہ نئی پابندیاں تنازع ختم کرسکتی ہیں۔ ان کے مطابق پائیدار حل انصاف اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :سوئٹرز لینڈ میں ایران امریکہ مذاکرات کے بعد پاکستان اورقطر کا مشترکہ اعلامیہ جاری

عراقچی کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ تہران ایک طرف مذاکرات پر زور دے رہا ہے جبکہ دوسری طرف ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف سخت ردعمل کا عندیہ دے رہا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق ان کا مؤقف واضح ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل میں ایران کے مفادات اور خودمختاری کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تہران نے ماضی کے تجربات کی بنیاد پر کسی بھی دباؤ کو قبول نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

ہرمز پر امریکی جواب

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے آبنائے ہرمز سے متعلق سفارتی پیش رفت پر بھی اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔

غریب آبادی کے مطابق یہ جواب نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاسوں کے دوران عباس عراقچی کی پیش کردہ تجویز سے متعلق ہے۔ ایران اس معاملے پر غور کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایرانی حکومت نے اس معاملے پر حتمی جواب تیار کیا تو اسے متعلقہ سفارتی ذرائع کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ہرمز کے معاملے کو سفارتی سطح پر بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

ٹرمپ کا انکار

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر کے اواخر میں ایران کی پیشکش مسترد کردی تھی۔ ایرانی پیشکش میں سات دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا منصوبہ شامل تھا۔

اب ایرانی حکام کی جانب سے امریکی جواب کا جائزہ لینے کا بیان سامنے آیا ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہرمز کا معاملہ ایران امریکا سفارتی رابطوں میں اہم موضوع بنا ہوا ہے۔

ایران نے ایک طرف مذاکرات کو تنازع کا حل قرار دیا ہے۔ دوسری طرف تہران نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ فوجی تصادم مسلط کیا گیا تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔

ممکنہ نیا تناؤ

ایرانی بیانات میں سفارتی راستے اور دفاعی تیاری دونوں پہلو نمایاں ہیں۔ تہران امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کو اہم قرار دے رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :واشنگٹن کے تمام اقدامات ناکام، تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ رک نہ سکا، باقر قالیباف

تاہم ایران نے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں سخت ردعمل کا عندیہ بھی دیا ہے۔ اس صورتحال میں آبنائے ہرمز سے متعلق سفارتی پیش رفت مزید اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

ایرانی حکام کے آئندہ فیصلے اور امریکی ردعمل خطے کی صورتحال پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ فی الحال تہران کا مؤقف یہی ہے کہ مسئلے کا حل جنگ نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر مذاکرات ہیں۔

editor

Related Articles