امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے 100 طیارے تباہ، وزیر مواصلات کا بڑا انکشاف

امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے 100 طیارے تباہ، وزیر مواصلات کا بڑا انکشاف

ایران کی وزیر برائے مواصلات فرازانے صادق نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے 100 طیارے تباہ ہو گئے۔

تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دشمن نے ہوائی اڈوں کے ساتھ ساتھ بجلی اور پانی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق شدید نقصان کے باوجود ایران نے متبادل انتظامات کے ذریعے حج پروازیں اور بنیادی ٹرانسپورٹ نظام رواں دواں رکھا۔

وزیر مواصلات کی پریس کانفرنس میں کیا کہا گیا؟

ایرانی وزیر برائے مواصلات فرازانے صادق نے تہران میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران کو اپنے فضائی بیڑے میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:طیارہ مار گرائے جانے کے بعد امریکی پائلٹ کہاں چھپا رہا؟خفیہ پیغام بھی سامنے آ گیا

ان کے مطابق دشمن قوتوں نے صرف ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ملک کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً بجلی اور پانی کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا، جس سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزارت مواصلات مواصلاتی انفراسٹرکچر کی جلد از جلد بحالی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے، تاکہ ملک بھر میں رابطے کا نظام معمول پر لایا جا سکے۔

نقصان کے باوجود پروازوں اور ٹرانسپورٹ کا تسلسل

فرازانے صادق نے اس بات پر زور دیا کہ 100 مسافر طیارے تباہ ہونے کے باوجود ایران نے اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر مفلوج نہیں ہونے دیا۔

ان کے مطابق باقی ماندہ 8 طیاروں کی مدد سے ایران نے حج پروازیں کامیابی سے مکمل کیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ شدید نقصان کے باوجود بنیادی خدمات کو جاری رکھنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح جنگ کے دوران بھی ریل، روڈ اور بندرگاہوں کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا، جس سے تجارتی و رسدی سرگرمیاں کسی حد تک متاثر ہونے سے بچ گئیں۔

25 صوبے اور 400 شہر متاثر

ایرانی وزیر مواصلات نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا نے ایران کے 25 صوبوں میں پھیلے 400 شہروں کو بمباری کا نشانہ بنایا۔

ان کے مطابق اس بمباری کے نتیجے میں ایک لاکھ کمرشل اور رہائشی یونٹس براہ راست متاثر ہوئے، جس سے ہزاروں خاندانوں کی روزمرہ زندگی درہم برہم ہو گئی۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حملوں کا دائرہ محض عسکری تنصیبات تک محدود نہیں رہا بلکہ شہری آبادی اور نجی املاک بھی بڑے پیمانے پر زد میں آئیں۔

مزید پڑھیں:مذاکرات کے دروازے بند، ایران کا دو ٹوک اعلان، جنگ طویل ہونے کا خدشہ، امریکی صدر کا بڑا دعویٰ بھی سامنے آگیا

حالیہ عرصے میں ایران اور امریکا و اسرائیل کے مابین کشیدگی نے کھلی فوجی جھڑپ کی صورت اختیار کی، جس کے دوران دونوں جانب سے فضائی اور زمینی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ حملوں کا نشانہ نہ صرف عسکری تنصیبات بلکہ عام شہری انفراسٹرکچر بھی بنایا گیا، جس میں توانائی، پانی کی فراہمی اور مواصلاتی نظام شامل ہیں۔

ایرانی حکام وقتاً فوقتاً نقصانات کی تفصیلات جاری کرتے رہے ہیں تاکہ عالمی برادری کو حملوں کی شدت اور ان کے شہری زندگی پر اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس سے قبل بھی ایرانی حکام کی جانب سے فوجی ذخائر اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات پر مختلف بیانات سامنے آ چکے ہیں۔

کیا ایران کی صلاحیتیں طویل مدتی طور پر متاثر ہوں گی؟

ایک سو طیاروں کی تباہی کسی بھی ملک کے فضائی دفاعی نظام کے لیے بہت بڑا دھچکا تصور کی جاتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہو۔

تاہم ایرانی حکام کا یہ دعویٰ کہ محدود وسائل کے باوجود حج پروازیں اور بنیادی ٹرانسپورٹ نظام جاری رکھا گیا، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران بحرانی صورتحال میں بھی اپنی انتظامی صلاحیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں:پاک ایران تجارتی روابط مضبوط بنانے کے لیے ٹرانسپورٹ نظام بہتر بنانا ہوگا، عبدالعلیم خان

دوسری جانب 400 شہروں میں بمباری اور ایک لاکھ رہائشی و کمرشل یونٹس کے متاثر ہونے کے اعداد و شمار اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ نقصان کا دائرہ کار محض عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ اس نے ایرانی معیشت اور عام شہریوں کی زندگی کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔

بجلی، پانی اور مواصلات جیسے بنیادی شعبوں کی بحالی میں وقت لگے گا، اور اگر یہ عمل سست روی کا شکار رہا تو اس کے اثرات ملکی معیشت اور عوامی اعتماد پر طویل مدت تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں ایران کے لیے اصل چیلنج نہ صرف نقصان کی تلافی بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی مزاحمتی صلاحیت کا تاثر برقرار رکھنا بھی ہوگا۔

Related Articles